رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں مبینہ جبری گم شدگیوں کی امریکی کانگرس کی کمیٹی میں بازگشت


اسلام آباد مین بلوچستان کے جبری لاپتا ہونے والے افراد سے متعلق اسلام آباد میں مظاہرہ۔ فائل فوٹو

امریکی کانگرس کے بعض اراکین نے اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پرزور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سماجی کارکنوں کی مبینہ گمشدگیو ں کے معاملے کو پاکستانی حکومت کے ساتھ اٹھائے۔

قانون سازو ں کی طرف سے یہ بات بدھ کو ایوان نمائندگان کی ایشیا اور پیسیفک خطے سے متعلق ایک ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کی سیکورٹی امداد معطل کرنے کے فیصلے کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات سردی مہری کا شکار ہیں۔

کانگرس کی کمیٹی کے سامنے پاکستان میں جبری گمشدگی کی معاملے پر جن دو لوگوں نے بات کی ہے ان میں عاقل شاہ بھی شامل تھے جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ اور انہوں نے بلوچستان اور سندھ میں مبینہ طور پر لاپتا ہونے والے افراد کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔

عاقل شاہ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتا ہونے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مبینہ طور پرلاپتا ہونے والے افراد میں سماجی میڈیا پر سرگرم کارکن اورصحافی بھی شامل ہیں ۔ اور انہوں نے پاکستان کی انٹیلی جینس ایجنسیوں پر ان واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

پاکستانی حکومت اور سیکورٹی کے ادارے ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ملوث ہیں۔

دوسری طرف لاپتا ہونے والے افراد کی گمشدگیوں سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ لاپتا افراد کو بازیاب کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اگرچہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے امریکی قانون سازوں کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کے رکن نثار محمد کا کہنا ہے کہ پارلیمان اور حکومت کی کوششوں کی وجہ سے گمشدگیوں کی واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ" لاپتا افراد سے متعلق قومی کمیشن اور حکومت نے لاپتا افراد کی بازیابی کے موثر اقدامات کیے ہیں اور پہلے جیسی صورت حال نہیں ہے۔ پارلیمان اور دیگر حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔"

واضح رہے کہ حکومت نے 2011ء میں سابق جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتا افراد کے معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا تھا اور لاپتا افراد کے معاملے سے متعلق پاکستان کے قانون ساز بھی آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور حال ہی میں پاکستان کی وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق کمیشن کو اب تک 4608 لاپتا افراد کے بارے میں شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں سے 3076 افراد کے معاملات کو نمٹا دیا گیا ہے جبکہ دیگر 1532 افراد کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG