رسائی کے لنکس

امریکی میزائل حملہ بشار الاسد کے لیے واضح پیغام ہے


تجزیہ کار کہتے ہیں کہ برآمد ہونے والے نتائج واضح نہیں: آیا اقتدار پر اسد کی گرفت اتنی ہی مضبوط رہتی ہے جتنی کہ تھی، یا پھر اُن کی مزید کیمیائی حملوں کی صلاحیت کچھ قدر کم ہو چکی ہے

شام کے فضائی اڈے کو علی الصبح کروز میزائل سے نشانہ بنایا جانا صدر بشار الاسد کے لیے ایک واضح پیغام کا درجہ رکھتا ہے: وہ یہ کہ اس طرح کام نہیں چلے گا، کیمیائی ہتھیار استعمال ہوں گے تو امریکہ طاقت سے جواب دے گا۔

برآمد ہونے والے نتائج واضح نہیں: آیا اقتدار پر اسد کی گرفت اتنی ہی مضبوط رہے گی جتنی کہ تھی، یا پھر اُن کی مزید کیمیائی حملے کی صلاحیت کچھ قدر کم ہو چکی ہے۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فوجی اقدام کا مقصد چوکنہ کرنا تھا۔ اہل کاروں نے کہا ہے کہ الشعیرات ’ائیر بیس‘ کو نشانہ بنایا گیا تاکہ یہ دوبارہ قابلِ استعمال نہ رہے، اور اس طرح کے حملے کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے، جس میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کی وڈیو میں متاثرین کی حالت زار دیکھ کر دہشت پھیلی، جو’ سارن‘ جیسی زہریلی گیس کے اثرات کا پتا دیتی تھی۔

فوجی ہوائی اڈا، ہینگر، کنٹرول ٹاور اور اسلحے کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔

یہاں سے شام کی پالیسی کیا رُخ اختیار کرتی ہے؟

امریکہ نے شام کے ساتھ اعلانِ جنگ نہیں کیا، کم از کم ابھی تک ایسا ہی ہے۔

یہ مداخلتی اقدام انتہائی محدود نوعیت کا تھا، جس سے اسد کی فوج کی صلاحیت میں کمی لانے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ وہ اپنا طرزِ عمل بدلے، اور امریکہ نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کسی مزید فوجی اقدام کو وسعت دینا ممکن ہے۔

تاہم، میزائل کے حیران کُن یکے بعد دیگرے نشانوں سے یہ سوال اٹھتا ہےآیا حالیہ دِنوں کے دوران ٹرمپ کے مؤقف میں آنے والی اِس تبدیلی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، شام کے معاملے پر پالیسی اب کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔ ایک ہفتہ نہیں گزرا کہ اُن کی انتظامیہ نے زور دے کر کہا تھا کہ اسد کو اقتدار سے ہٹانا اُن کے لیے ترجیحی معاملہ نہیں، اور امریکہ کا دھیان ملک کے شمال میں داعش کی سرکشی کو شکست دینے پر مرتکز ہے۔

لیکن، جمعرات کی رات یوں لگا کہ ٹرمپ نے ایک نئے، کھلے عزم کا انداز اپنایا ہے کہ اسد کی جانب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کا جواب ناگزیر ہو چکا ہے۔

ٹرمپ کے الفاظ میں ’’یہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد کا ایک کلیدی اصول ہے کہ ہم کسی طور پر مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور پھیلاؤ کو برداشت نہیں کرتے، اسے روکیں گے‘‘۔

اسد کمر بستہ ہوسکتے ہیں

اس طرح کا اعلان خدشات سے خالی نہیں ہوا کرتا۔ کسی بھی امریکی اہل کار نے یہ اعلان نہیں کیا کہ مزید کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ اگر، اِس سے اسد نے کوئی سبق نہیں سیکھا، تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اُسے اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ زہریلی گیس سے تڑپ تڑپ کر مرتے ہیں یا جیتے ہیں۔ ادھر، امریکہ کے پاس زیادہ گنجائش باقی نہیں رہے گی، ماسوائے اس کے کہ وہ فوجی طور پر ڈٹ جائے۔

پینٹاگان کے ترجمان، نیوی کے کپتان جیف ڈیوس نے کہا ہے کہ امریکہ ابھی 59 ’ٹوماہاکس‘ سے برآمد ہونے والے نتائج کا جائزہ لے رہا ہے، اس توقع کا اظہار کرتے ہوئے کہ اسد حکومت نے ضرور کوئی سبق سیکھا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ اب یہ شامی حکومت پر منحصر ہے آیا وہ چاہے گی کہ امریکہ مزید اقدام کرے۔

اس سے یہ خدشہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ اسد یہ کوشش کریں کہ وہ امریکہ کو اِس عرب ملک کی چھ برس پرانی خانہ جنگی میں الجھا کر رکھ دے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں پہلے ہی لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اور اس کے باعث جنگ عظیم دوئم کے بعد سے اب تک کا مہاجرین کا بدترین بحران پیدا ہوا، جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اسد کی افواج کمزور ہوتی ہوئی، لیکن تیش میں آئے ہوئے مخالف کیمپ سے لڑائی میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے دور میں، امریکہ لڑائی کا حصہ بننے سے باز رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG