رسائی کے لنکس

logo-print

’ملالہ نے واپس آکر ظاہر کیا کہ وہ ڈرتی نہیں‘


فائل فوٹو

ملالہ یوسفزئی نے ملک کے شمالی مغربی شہر سوات میں اُس وقت لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کی تھی جب وہاں طالبان کا غلبہ تھا جو خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے۔

نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کی لگ بھگ ساڑھے پانچ سال بعد وطن واپسی کو انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ایک مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں اس سے اُن کوششوں کو تقویت ملے گی جو ملالہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کرتی رہی ہیں۔

تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بھارت کے کیلاش ستیارتھی کو 2014ء میں مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

ماہرِ تعلیم اور تجزیہ کار اے ایچ نیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی واپسی وطن کے لیے اعزاز ہے۔

"پاکستان کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ بالآخر ملالہ وطن واپس آئی ہے اور اس نے ظاہر کیا ہے کہ وہ ڈرتی نہیں ہے اور وہ اپنی مہم جاری رکھے گی۔ حالانکہ یہاں وہ لوگ موجود ہیں جو اتنے بزدل ہیں کہ اسکول سے واپس آنے والی بچی پر گولی چلا کر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے بڑا اچھا کام کیا۔"

ملالہ کو 9 اکتوبر 2012ء کو اسکول سے گھر واپس جاتے ہوئے سوات میں طالبان شدت پسندوں نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ پشاور اور پھر راولپنڈی میں فوج کے اسپتالوں میں زیرِ علاج رہنے کے بعد ملالہ کو مزید علاج کے لیے خصوصی ایئر ایمبولنس کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیا تھا جہاں صحت یابی کے بعد وہ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حقوقِ انسانی کی ایک سرگرم کارکن بے نظیر جتوئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ملک میں ترقی پسند حلقے ملالہ کی واپسی پر بہت خوش ہیں کیوں کہ "ملالہ ہماری ہیرو ہیں۔"

اُن کا کہنا تھا کہ "ہماری یہ بدقسمتی رہی ہے کہ باہر کے لوگ ہمارے ہیروز کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم اُن کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں تو ذاتی طور پر بہت خوش ہوں۔ بدقسمتی سے ان کی سیلیبریشن یا ان کا قیام زیادہ نہیں ہے۔"

بے نظیر جتوئی نے کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ ملالہ کی واپسی کے بعد پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو معلوم ہو گا کہ سوات سے تعلق رکھنے والی طالبہ نے بچیوں کی تعلیم کے لیے کتنی بہادری سے آواز بلند کی۔

بدھ کی شب وطن واپسی کے بعد ملالہ یوسفزئی نے جمعرات کی صبح اپنے والد اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی، جس کے بعد ان کے اعزاز میں ایوانِ وزیرِ اعظم میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا۔

ملالہ یوسفزئی نے ملک کے شمالی مغربی شہر سوات میں اُس وقت لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کی تھی جب وہاں طالبان کا غلبہ تھا جو خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG