رسائی کے لنکس

logo-print

'امان اللہ پاکستان کے کامک جینئس تھے'


کامیڈین امان اللہ، فائل فوٹو

قہقہوں کے بادشاہ اور ہزاروں چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والے امان اللہ طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔

امان اللہ نے پاکستان کے علاوہ نہ صرف بھارت میں بلکہ پوری دنیا میں، جہاں جہاں اردو اور پنجابی سمجھنے والے مقیم ہیں، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جس پر انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

گزشتہ چالیس سالوں سے شوبز کے صحافی اور امان اللہ کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے طاہر سرور میر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امان اللہ کا تعلق بنیادی طور پر موسیقی کے ایک کلاسیکل گھرانے سے تھا اور امان اللہ کے بزرگوں نے انہیں موسیقی کی تعلیم تو دی، لیکن امان اللہ نے موسیقی کو پیشے کے طور پر اپنایا نہیں۔

امان اللہ کی یاد میں
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:29 0:00

امان اللہ کے ماضی کے بارے میں طاہر سرور میر کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ کے ایک نواحی علاقے چکر انداز میں پیدا ہونے والے امان اللہ کا بچپن معروف گلوکاروں جیسے مہدی حسن، طفیل نیازی اور غلام علی کے ساتھ گزرا۔

امان اللہ کے ماضی کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے طاہر سرور کا کہنا تھا کہ لاہور منتقل ہونے کے بعد امان اللہ داتا صاحب کے باہر قائم بازار میں مختلف فنکاروں جیسے عنائت حسین بھٹی اور عالم لوہار کی نقلیں اتارتے ہوئے چاکلیٹس اور مرونڈے بیچا کرتے تھے۔

امان اللہ کی تھیٹر میں اینٹری سے متعلق طاہر سرور میر کا کہنا تھا کہ 1978، 79 میں ڈرامہ 'سکسر' کے ڈائریکٹر سہیل آفندی نے امان اللہ کو ایک اینٹری دی۔ جس کے اسکرپٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے امان اللہ نے ایک فی البدیہہ پرفارمنس دی۔ جس کو بہت پذیرائی ملی۔ جس کے بعد تھیئٹر ڈائریکٹر نے امان اللہ کو اپنے ڈراموں میں کاسٹ کرنا شروع کیا۔

طاہر سرور میر کے مطابق، امان اللہ نے اپنا دوسرا ڈرامہ معروف مزاح نگار صوفی تبسم کے بیٹے صوفی جاوید کا کیا تھا۔ جس کا 'نام بیوٹی کلینک' تھا اور اس کے بعد چاند کی سطح پر، پھر 'کالی کلوٹی کے نخرے بڑے' اور اس کے بعد 'بشیرا اِن ٹربل' کیا۔ لیکن امان اللہ کو جو شہرت ملی وہ ڈرامہ 'کالی کلوٹی کے نخرے بڑے' سے ملی تھی۔ جس کے بعد امان اللہ کو زیادہ پیسے ملنا شروع ہو گئے۔

امان اللہ کی ٹی وی میں اینٹری سے متعلق طاہر کا کہنا تھا کہ اس وقت کے ڈائریکٹرز جیسے نصرت ٹھاکر اور راشد ڈار کی خواہش تھی کہ امان اللہ ٹی وی ڈراموں میں آئیں۔ لیکن امان اللہ ٹی وی پر اداکاری نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ٹی وی کی کامیڈی برجستہ نہیں ہے، فی البدیہہ نہیں ہے اور اس زمانے میں ٹی وی میں پیسے بھی کم ملتے تھے۔

کامیڈی شوز میں امان اللہ کی اینٹری سے متعلق طاہر کا کہنا تھا کہ امان اللہ، آفتاب اقبال کے ساتھ جیو پر آنے والے پروگرام خبرناک کا حصہ بنے اور 2013 میں دنیا نیوز پر شروع ہونے والے ان کے اپنے پروگرام 'مذاق رات' کا حصّہ بنے۔

طاہر سرور میر کا مزید کہنا تھا کہ امان اللہ شروع سے ہی زیادہ پیسے لینے والے اداکار تھے اور 1982, 83 میں ایک وقت ایسا تھا کہ وہ اور ان کے دوست سہیل احمد اور ببو برال بیٹھ کر یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ امان اللہ مہینے کے 70 ہزار روپے کا کرتے کیا تھے اور کوئی رات لاہور میں ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں وہ بُک نہیں ہوتے تھے۔

امان اللہ کی علالت کے دنوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے طاہر کا کہنا تھا کہ بھارتی گلوکار دلیر مہدی اور کامیڈین کپل شرما نے امان اللہ کو پیش کش کی تھی کہ وہ ان کے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ بھارت میں کروانا چاہتے تھے۔

پاکستان میں نیوز چینلز پر مزاحیہ پروگرام کی داغ بیل رکھنے والے آفتاب اقبال کا کہنا ہے کہ امان اللہ صحیح معنوں میں 'کامک جینئس' تھے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ جب اسٹیج ڈرامے ویڈیوز کی صورت میں آنا شروع ہوئے تو انہوں نے امان اللہ کے دو ڈرامے 'شرطیہ مٹھے' اور 'بڑا مزہ آئے گا' دیکھے اور پھر انہیں احساس ہوا کہ امان اللہ صحیح معنوں میں کامک جینئس ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امان اللہ کے ڈرامے دیکھ کر انہیں یہ ضرور لگا کہ وہ اچھے اداکار یا پرفارمر ہرگز نہیں ہے۔ لیکن امان اللہ کا مشاہدہ بہت کمال کا تھا۔ ان کے بقول آج تک انہوں نے اتنا کمال مشاہدہ کسی کا نہیں دیکھا اور اس کے باوجود کہ وہ 'چٹے ان پڑھ' تھے۔ وہ 'کامک جینئس آف پاکستان' تھے۔

لاہور کے گورنمنٹ کالج میں اپنے زمانہ طالب علمی میں امان اللہ سے ہونے والی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے 'حسب حال' شروع کیا تو وہ اور مشہور کامیڈین سہیل احمد اکثر کامیڈینز پر بات کیا کرتے تھے اور انہیں ایسا لگا کہ سہیل احمد بہت بڑا معترف ہے امان اللہ کا۔ تو انہوں نے امان اللہ کی دو تین چیزیں مزید دیکھیں۔ پھر انہیں یہ احساس ہوا کہ سہیل احمد جو بھی امان اللہ کے بارے میں کہتے تھے۔ وہ ٹھیک کہتے تھے۔

اپریل 2010 کو یاد کرتے ہوئے آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے خبرناک شروع کیا تو ان کی پہلی بالمشافہ ملاقات امان اللہ خان کے ساتھ ہوئی اور امان اللہ کے ساتھ کام شروع کرنا ان کی زندگی کا ایک تلخ تجربہ ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ امان اللہ کیمرے کے سامنے کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔

امان اللہ کے ساتھ اپنی شروع کی ریکارڈنگز یاد کرتے ہوئے آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ امان اللہ اکلوتا ایسا کریکٹر تھا، جسے میں ماحول بنا کر غصہ دلاتا تھا کیونکہ مجھے ایسا لگتا تھا کہ امان اللہ کو جب تک غصہ نہ آئے، وہ دل کی باتیں نہیں کرتے تھے۔

آفتاب کے بقول، امان اللہ ان کے ساتھ وہ سلوک کیا کرتے تھے جو سوتیلوں کے ساتھ کرتے ہیں اور یہی ساری کامیڈی ہوتی تھی۔

"امان اللہ میری خوب مٹی پلید کرتا تھا اور بعض اوقات تو ایسا ہوتا تھا کہ وہ بالکل ہی آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔ لیکن وہ اتنی شاندار بات ہوتی تھی اور اس کا اظہار اتنا قدرتی ہوتا تھا کہ وہ خود ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے"۔

امان اللہ کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں جب کامیڈی کی تاریخ لکھی جائے گی، تو وہ سمجھتے ہیں کہ آدھی کتاب کامیڈی اور کامیڈینز پر ہو گی، جبکہ آدھی کتاب امان اللہ پر ہو گی۔

امان اللہ کو بطور ہمدرد انسان یاد کرتے ہوئے آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ 'وہ ایک انتہائی اچھے انسان تھے اور حتٰی کہ جب وہ کمینگی بھی کر رہے ہوتے تھے تو اپنی مجبوری ظاہر کر رہے ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ میں مجبوراً یہ حرکت کر رہا ہوں'۔

امان اللہ کے ساتھ کی گئی ایک ریکارڈنگ کی روئیداد سناتے ہوئے آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ پروگرام کے دوران ان کے والد ظفر اقبال کی 1978 میں قید سے متعلق بات چیت ہو رہی تھی اور وہ جیل میں اپنے والد سے ملاقات کا ایک قصہ سنا رہے تھے تو اچانک سیاق و سباق سے ہٹ کر، امان اللہ کو پتہ تھا کہ یہ بات 1978 کی ہے اور اگلی بات 1988 کی ہونے والی ہے تو امان اللہ نے کہا کہ آپ 1988 میں کہاں تھے۔ تو میں نے کہا کہ میں تو امریکہ چلا گیا تھا پڑھنے۔ جس کے جواب میں امان اللہ کا کہنا تھا کہ باپ جیل میں تھا اور اولاد امریکہ پڑھنے چلی گئی۔ کیسی نالائق اولاد ہے۔ جس کے بعد وہ ہنس ہنس کر پاگل ہو گئے اور انہیں پروگرام ختم کرنا پڑا۔

امان اللہ سے اپنی آخری ملاقات کو یاد کرتے ہوئے آفتاب اقبال نے بتایا ، کہ امان اللہ کو آکسیجن سلینڈر لگا ہوا تھا اور وہ بتا رہے تھے کہ وہ گھر بیٹھے اکتا جاتے ہیں۔ جواب میں میں نے ان سے کہا کہ بس آپ ذرا سے ٹھیک ہو جائیں، پھر ہم آپ کو ہریسہ کھلانے لے جائیں گے، اور گپ شپ کریں گے۔۔۔۔افسوس کہ ان کا وقت ختم ہوگیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG