رسائی کے لنکس

logo-print

صحیح دینی تعلیم سے مسلم معاشرے کی رہنمائی ممکن ہے: انیق احمد


انیق احمد کا پروگرام ’’صبح نو‘ بھی مقبولیت کے حوالے سے بقول ان کے پاکستان کے اولین تین پروگراموں میں شامل تصور کیا جاتا ہے، جس کی اب تک پانچ سو سے زائد قسطیں ٹیلی ویژن پر نشر ہو چکی ہیں

قرآن اور حدیث کی صحیح سمجھ بوجھ اور ان کی درست تشریح میں مسلم امہ کے موجودہ مسائل کا حل ہے اور یہ کہ ’معذرت خواہانہ سوچ کے حامل علما قوم کی صحیح رہنمائی کے اہل نہیں ہہں‘۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹیلی ویژن پر مذہبی پروگرام کے ایک معروف میزبان، انیق احمد نے کیا، جو ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔

انیق احمد ملک کی مشہور جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔ لیکن، انھوں نے قرآن وحدیث کے عمیق مطالعے کے بعد ملک کے سب سے بڑے ٹیلی ویژن چینل ’جیو نیوز‘ سے ایک نئے انداز سے مذہبی پروگرام ’الف‘ کا آغاز کیا، جو بہت مقبول ہوا۔

ایک نجی چینل ’دنیا نیوز’ پر ان کا پروگرام ’’صبح نو‘ بھی مقبولیت کے حوالے سے، بقول ان کے، ’ان دنوں پاکستان کے اولین تین پروگراموں میں شامل ہے، جس کی اب تک پانچ سو سے زائد قسطیں ٹیلی ویژن پر نشر ہوچکی ہیں‘۔

تاہم، انیق احمد نے واشنگٹن میں ’وائس آف امریکہ‘ کو دئے گئے ایک انٹرویو میں شکوہ کیا کہ ’ذرائع ابلاغ کے اس اہم ذریعے کو ملک میں محض تفریح کا ذریعہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مذہبی پروگراموں میںٕ بھی علمی گفتگو کی بجائے کھیل و تماشا کیا جاتا ہے، حالانکہ علمی پروگراموں کو دلچسپ پیرائے میں پیش کرکے اسے معاشرے کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ وہ کم ازکم پانچ ہزار ایسے نوجوان تیار کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جو جدید اور مذہبی علوم سے مشترکہ طور پر بہرآور ہو اور معذرت خواہانہ سوچ کی بجائے دینی علوم کو فخریہ انداز سے دنیا کے سامنے پیش کرسکیں‘۔

انیق احمد کا کہنا تھا کہ مختلف مکاتب فکر کے علما کے ساتھ مل کر پروگرام کرنے سے یہ بات عیاں ہے کہ دین اسلام تمام اہل کتاب کے درمیان مشترکہ افکار پر مل کر آگے بڑھنے پر زور دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اہل کتاب کے درمیان مشترکہ افکار پر بات ہوسکتی ہے تو پھر مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی کیوں قائم نہیں ہوسکتی؟

بقول اُن کے، ’یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر تمام اہل رائے کی توجہ کی ضرورت ہے، تاکہ جدید تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عصر حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے‘۔

XS
SM
MD
LG