رسائی کے لنکس

شاہی قلعے کے دیوانِ عام میں تہہ خانہ دریافت


لاہور کے شاہی قلعے کو 1981 میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا۔

لاہور میں مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں تعمیر ہونے والے شاہی قلعے کے دیوان عام میں تزئین و آرائش کے کام کے دوران ایک تہہ خانہ دریافت ہوا ہے۔ تہہ خانہ میں تین بڑے کمرے اور سیڑھیاں موجود ہیں۔

لاہور کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرداں ادارے والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر کنزرویشن نجم الثاقب کے مطابق شاہی قلعے میں موجود دیوانِ عام کے فرش کی مرمت اور بحالی کے دوران تہہ خانہ دریافت ہوا۔

ان کے بقول اس تہہ خانے میں تین بڑے کمرے اور سیڑھیاں موجود ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نجم الثاقب نے کہا کہ اس دور میں یہ تہہ خانہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا اس حوالے سے مزید تحقیق کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی کے شعبہ بحالیات نے مذکورہ تہہ خانہ کی بحالی کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

اِس سے قبل شاہی قلعہ لاہور میں 'بارود خانہ' کے نیچے بھی ایک تہہ خانہ دریافت ہو چکا ہے۔

دیوانِ عام میں 40 ستون تعمیر کرائے گئے جو تین سال میں مکمل ہوئے۔ یہ تمام ستون نور جہاں کے بھائی محمد آصف کی زیر نگرانی تعمیر کیے گئے تھے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کی ترجمان تانیہ قریشی کہتی ہیں کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مغل دور میں دیوانِ عام نفیس قالین، ویلویٹ کے مہنگے پردے اور بڑی کنوپی سے ڈھکا ہوا تھا۔

تانیہ قریشی کے مطابق شاہی قلعہ لاہور کا دیوانِ عام کو سکھ حکمران رنجیت سنگھ کے بیٹے شیر سنگھ نے تباہ کر دیا تھا۔ شیر سنگھ نے کھڑک سنگھ کی بیوہ چاند کور کے خلاف لڑتے ہوئے دیوانِ عام پر گولہ باری کی تھی۔

اسے برطانوی دورِ حکومت میں دوبارہ تعمیر کیا گیا، اس دوران دیوانِ عام میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئیں تھیں۔

والڈ سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کامران لاشاری کا کہنا ہے کہ لاہور کا شاہی قلعہ اانتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز جگہ ہے۔

ان کے بقول جوں جوں ہم اس کی بحالی کا کام کرتے جا رہے ہیں مزید دریافتیں سامنے آ رہی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کامران لاشاری نے کہا کہ کھدائی کے دوران تہہ خانے کے ساتھ کچھ کمروں کے بھی اثرات ملے ہیں۔ تہہ خانے کی بحالی کے بعد اس کو بھی سیاحوں کے لیے کھولا جائے گا۔

لاہور کے شاہی قلعے کو 1981 میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG