رسائی کے لنکس

مردان پولیس نے اس مقدمے میں 61 ملزمان کو نامزد کیا تھا اور اطلاعات کے مطابق پولیس اب تک 58 افراد کو گرفتار کر چکی ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی پولیس نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے شبہے میں ایک اور شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔

خیبر پختوانخوا پولیس کے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان کے مطابق مشتبہ شخص اظہار اللہ عرف جانی کو مردان پولیس نے تھانہ صدر کی حدود سے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا۔

تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ کارروائی کس دن کی گئی۔

پولیس اظہار اللہ کو پہلے ہی مشال قتل کیس میں اشتہاری قرار دے چکی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ مشال کے قتل کے تین مرکزی ملزم تاحال مفرور ہیں اور پولیس ان کی گرفتار ی کے لیے کوشاں ہے۔

مردان پولیس نے اس مقدمے میں 61 ملزمان کو نامزد کیا تھا اور اطلاعات کے مطابق پولیس اب تک 58 افراد کو گرفتار کر چکی ہے جس میں سے 57 کے خلاف فرداً فرداً فردِ جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔

مشال کے قتل کا مقدمہ ہری پور جیل میں قائم ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی کے عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

واضح رہے کہ مشال خان کے والد اقبال خان نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مشال کے قتل کا مقدمہ مردان سے کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر گزشتہ سال جولائی میں ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت منتقل کردیا تھا۔

مشال خان کو ان کے ساتھی طلبہ، بعض یونیورسٹی ملازمین اور دیگر افراد نے اپریل 2017ء کو توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مشال پر توہینِ مذہب کے الزم کو غلط قرار دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG