رسائی کے لنکس

اے این پی کی واحد خاتون سینیٹر ستارہ ایاز کا پارٹی سے اخراج


عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے سینیٹ میں پارٹی کی واحد سینیٹر ستارہ ایاز کی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے۔ اُن پر اے این پی میں گروپ بندی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی دفتر باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سینیٹر ستارہ ایاز پر پارٹی میں گروپ بنانے اور گروہ بندی کو فروغ دینے میں مصروف تھیں۔

اعلامیے کے مطابق، ستارہ امتیاز پر اے این پی میں ذیلی تنظیموں سے بغاوت اور پارٹی منافی سرگرمیوں کا الزام تھا جس کی وجہ سے صوبائی صدر نے انہیں شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

مبینہ طور پر سینیٹر ستارہ ایاز کو شوکاز نوٹس کے جواب میں ذاتی طور پر پارٹی کی صوبائی کابینہ میں پیش ہو کر موقف دینے کا موقع دیا گیا۔

اے این پی کے اعلامیے کے مطابق، سینیٹر ستارہ پارٹی کی صوبائی کابینہ اور صدر کو مطمئن نہیں کر سکی تھیں۔

صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پارٹی آئین کے آرٹیکل 27 کے سیکشن ایک کے تحت سینیٹر ستارہ ایاز کی رکنیت ختم کرنے کی منظوری دی۔

ایمل ولی خان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ستارہ ایاز کا عوامی نیشنل پارٹی سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔

ستارہ ایاز کی اے این پی کی بنیادی رکینت کے خاتمے اور پارٹی سے نکالنے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی ایوان بالا میں نمائندگی ختم ہو گئی ہے۔

ستارہ ایاز ایوان بالا میں عوامی نیشنل پارٹی کی واحد رکن ہیں۔

'میڈیا کے ذریعے رکنیت کے خاتمے کی اطلاع ملی'

وائس آف امریکہ کو ستارہ ایاز نے بتایا کہ ابھی تک ان کو پارٹی کی جانب سے ان کی رکنیت کے خاتمے کے بارے میں کوئی تحریری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اُنہیں میڈیا کے ذریعے ان کی رکنیت کے خاتمے کی اطلاع ملی ہے۔

ستارہ ایاز کا کہنا تھا کہ جب انہیں تحریری طو ر پر اطلاع ملے گی تو تب وہ اپنا موقف اور آئندہ کا لائحہ عمل بتا سکیں گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیداران کا موقف ہے کہ پارٹی رکنیت کے خاتمے کے بعد اب ستارہ ایاز کا اے این پی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ لہٰذا، انہیں ازخود پارٹی کی دی ہوئی سینیٹ کی نشست چھوڑنی چاہیے۔

عہدیداران کے مطابق، ابھی تک پارٹی نے سینیٹ میں ستارہ ایاز کی رکنیت کے خاتمے یا منسوخی کے لیے چیئرمین سینیٹ کو ریفرنس بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پارٹی کے دیگر ارکان کو بھی نوٹس

سینیٹر ستارہ ایاز کو پارٹی سے نکالنے کے اعلان کے بعد ان کے آبائی ضلعے صوابی سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے پانچ دیگر عہدیداران کو بھی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔

یہ پانچ رہنما ستارہ ایاز کے ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

رواں ماہ کے شروع میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ضلع صوابی کا 10 روزہ دورہ کیا تھا۔

ایمل ولی خان کے دورے کے دوران سینیٹر ستارہ ایاز اور دیگر پانچ مقامی رہنماؤں نے ایمل ولی خان کی سرگرمیوں کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا تھا۔

خیال رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کا شمار قوم پرست جماعتوں میں ہوتا ہے۔ ماضی میں کئی بار اے این پی خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میں شامل رہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی 2008 سے 2013 تک مخلوط حکومت میں ستارہ ایاز وزیر کی حیثیت سے کابینہ کا حصہ تھیں۔

سینیٹر ایاز مارچ 2015 میں ایوان بالا کی رکن بنی تھیں۔ ان کی سینیٹ کی رکنیت کی مدت مارچ 2021 میں ختم ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG