رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات کو ایک سال مکمل، متحدہ اپوزیشن کا یومِ سیاہ


پاکستان میں عام انتخابات کو ایک سال مکمل ہونے پر حکمراں جماعت تحریک انصاف نے جمعرات کو یومِ تشکر اور حزب اختلاف کی بیشتر جماعتوں نے یومِ سیاہ منایا۔

پچیس جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر نہیں آئی، بلکہ بقول ان کے، ’’اس کامیابی کے پس پردہ غیر جمہوری قوتیں کار فرما ہیں‘‘۔

اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف مل کر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس مقصد کے لیے ایک رہبر کمیٹی قائم کی گئی جس کے فیصلے کے تحت ملک کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاج اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔

اپوزیشن جماعتوں میں شامل مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علما اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت اہلحدیث کے کارکنان انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور حکومت کے خلاف منعقدہ جلسوں میں شریک ہوئے۔

دوسری جانب حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج یوم تشکر منا رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ 25 جولائی کے انتخابات میں پاکستان کے عوام کی اُمنگیں اور عمران خان کی 23 سالہ جدوجہد رنگ لائی۔ عوام نے عمران خان کو احتساب کا جو مینڈیٹ دیا آج اس کی فتح کا دن ہے۔

لاہور کے مال روڈ پر مشترکہ اپوزیشن کے منعقدہ جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف مرکزی خطاب کریں گے۔جلسے میں پیپلز پارٹی کی قیادت قمر زمان کائرہ، اے این پی کی قیادت امیر حیدر خان ہوتی اور جے یو آئی (ف) کی قیادت مولانا امجد خان کریں گے۔

کوئٹہ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کے لیے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز لاہور سے کوئٹہ پہنچیں جہاں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اُن کا استقبال کیا۔

متحدہ اپوزیشن کے رہنما پشاور میں منعقدہ جلسے میں شریک ہیں۔ (فوٹو: بشکریہ اے این پی)
متحدہ اپوزیشن کے رہنما پشاور میں منعقدہ جلسے میں شریک ہیں۔ (فوٹو: بشکریہ اے این پی)

لاہور میں شہباز شریف، پشاور میں مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی اور آفتاب خان شیر پاؤ، کراچی میں بلاول بھٹو زرداری اور کوئٹہ میں مریم نواز اور محمود خان اچکزئی نے متحدہ اپوزیشن کے جلسوں سے مرکزی خطاب کیے۔

پشاور میں متحدہ اپوزیشن کے زیر اہتمام موٹر وے رنگ روڈ کے مقام پر منعقدہ جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ، پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری، مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔

کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں اپوزیشن جماعتوں کے منعقدہ جلسے سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مرکزی خطاب کیا اور حکمراں جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ملک کو جب بھی ضرورت پڑی تو ہم نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملک کی بالا دستی کے لیے ایک ہو کر مقابلہ کیا۔ آج بھی پاکستان کو ہماری ضرورت پڑی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں۔

انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کون سا الیکشن ہے کہ پہلے جماعتیں توڑی جائیں، ان میں سے جیتنے والوں کو جمع کر کے انہیں ایک ٹوکرے کے نیچے رکھ دیا جائے۔ مرضی کا نتیجہ نکالنے کے لیے پولنگ ایجنٹس کو ہی باہر نکال دیا گیا۔ اسے ہم سلیکشن نہ کہیں تو کیا کہیں؟۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم کو خود اپنے وزراء تک چننے کا حق نہیں، ایسے میں انہیں 'سلیکٹڈ' نہ کہا جائے تو کیا کہیں؟۔

جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری اور اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور حکومت کی معاشی اور داخلہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG