رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو ’ڈالروں‘ کے تناظر میں نا دیکھا جائے: چوہدری نثار


چوہدری نثار نے کہا کہ دہشت گردی کو محض فوجی کارروائیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے سیاسی، جغرافیائی اور عالمی تنازعات سمیت بنیادی وجوہات کا تدارک ضروری ہے۔

پاکستانی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار خان نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو 68 سالہ تاریخ کے پس منظر میں دیکھے نہ کہ بطور امداد میں دیے جانے والے ڈالروں کے تناظر میں۔

چوہدری نثار تین روزہ انسدادِ انتہا پسندی کانفرنس میں شرکت کے لیے واشنگٹن آئے تھے، اُن کا پاکستانی سفارت خانے میں پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی تائید کی گئی کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

​یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اور مغرب کی جنگ اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف ہے جو اپنی مجرمانہ کارروائیوں کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ دہشت گردی کو محض فوجی کارروائیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے سیاسی، جغرافیائی اور عالمی تنازعات سمیت بنیادی وجوہات کا تدارک ضروری ہے۔

​انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے اجلاس علاقائی سطح پر بھی ہونے چاہیں جس میں خطے کے ممالک مل کر بیٹھیں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ انہوں نے تجویز دی ہے کہ اس قسم کی اگلی کانفرنس پاکستان میں منعقد کرائی جائے جس کا ’محور‘ جنوبی ایشیا کے خطے کے مسائل پر ہو۔

چوہدری نثار نے بھارت کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک ہمسایہ ملک بلوچستان اور فاٹا میں انتہا پسندی کی آگ بھڑکا رہا ہے لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتا کہ اس کی یہ پالیسی پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ جب امریکی صدر بھارت جاتا ہے اور پاکستان نہیں آتا تو اس کا ردِعمل پاکستان میں ہوتا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے اس دورے پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس سے بھی ملاقات کی۔ نثار علی خان نے بتایا کہ انہوں نے سوزن رائس کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔

XS
SM
MD
LG