رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان یا جنوبی ایشیا میں داعش کا وجود نہیں: چوہدری نثار


فرقہ وارانہ تنظیموں کے لوگ اندر سے آتے ہیں، خفیہ ایجنسیوں کے لئے ان کی کمیونیکیشن کا پتہ چلانا آسان نہیں ہوتا: وزیر داخلہ چوہدری نثار کا امریکی تھنک ٹینک سے خطاب

پاکستان کے وزیر داخلہ، چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں پہلی مرتبہ پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے پر مکمل اتفاق رائے رکھتے ہیں۔

بقول اُن کے، پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ وہ ’ٹرننگ پوائنٹ‘ تھا، جس نے فوج اور سویلن حکومت کو پہلی مرتبہ ایک نکتے پر یکجا کیا، گو کہ پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتیں مذہبی پس منظر کی حامل ہیں۔

انہوں نے پشاور واقعے کے بعد سات دنوں میں دہشت گردی کے خلاف ’نیشنل ایکشن پلان‘ تیار کرنے میں حکومت کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو دہشت گردی کے خطرے پر قابو پانے کے لئے مل کر کوششیں کرنی ہونگی۔

چوہدری نثار واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک، ’یونائیڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ فار پیس‘ سے خطاب کر رہے تھے۔

وائٹ ہاوٴس میں شدت پسندی کے خلاف جاری تین روزہ کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے ایجنڈے پر کم از کم 11 نکات ایسے ہیں جو دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے پاکستان کے قومی ایکشن پلان کا حصہ ہیں۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے شدت پسندوں کو مشرق وسطیٰ اور مغربی افریقہ کے شدت پسندوں سے ملانے کی کوشش ایک غلطی ہوگی۔ ان کے بقول، دنیا کے مختلف خطوں میں سرگرم دہشت گردوں کے ایجنڈوں کی نوعیت علاقائی ہے۔

چوہدری نثار کے بقول، ISIS یا داعش کہلانے والا گروہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود ہے؛ پاکستان یا جنوبی ایشیا میں اس کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں اس کے لئے میدان خالی کریں گی۔ تاہم، مستقبل میں اس خطرے پر قابو نہ پایا گیا تو داعش اور مقامی دہشت گردوں کے درمیان اتحاد بن سکتے ہیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں عبادت گاہوں پر حملے دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کا ردعمل ہیں۔ مگر ان کے بقول، پاکستانی حکومت نے ملٹری آپریشن سے پہلے شدت پسندوں سےمذاکرات کا راستہ ہی اختیار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے تعاون کی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن، ضرورت اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی برادری کی توجہ افغانستان اور پاکستان سے ہٹنے نہ پائے۔

وزیر داخلہ کے بقول، تشویش کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں شدت پسندوں کی تعداد کم نہیں ہوئی، مگر ایساف اور اتحادی فوج کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ پاکستانی حکومتوں نے دہشت گردی کے خلاف کیا اقدامات کئے، اس سے قطع نظر، اس وقت پاکستانی حکومت اور فوج ایک نکتے پر یکسو ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لئے تمام اداروں کو مل کر چلنا ہوگا۔ لیکن، سویلین اور ملٹری اداروں پر مبنی ’ریپڈ ریسپونس فورس‘ کے قیام میں کم سے کم ایک سال کی مدت لگے گی۔

پشاور اور شکارپور میں امام بارگاہوں میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وقتاً فوقتاً ابھرنے والی فرقہ واریت افغان جنگ کی دین ہے۔ چونکہ، ان کے بقول، افغان جنگ میں حصہ لینے والے بعض گروہوں نے بعد میں فرقہ واریت کا راستہ اختیار کیا تھا۔

تاہم، چوہدری نثار کے بقول، فرقہ وارانہ تنظیموں کے لوگ ہمارے اندر ہی سے آتے ہیں۔ اس لئے، خفیہ ایجنسیوں کے لئے ان کی کمیونیکیشن کا پتہ چلانا آسان نہیں ہوتا۔ دوسرے، وزیر داخلہ کے بقول، دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مذہبی عناصر کو ساتھ لے کر چلنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ فرقہ واریت کے مسئلے کا حل اندر سے کیسے تلاش کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں لشکر جھنگوی ہی نہیں کئی اور دہشت گرد تنظیمیں بھی سرگرم ہیں۔ جن کے لوگ افغانستان سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں۔

ایک سوال پر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے سابقہ پاکستانی حکومت کی پالیسیاں بےحد مبہم رہیں۔ ’لیکن، ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام کالعدم تنظیموں پر یکساں پالیسی اختیار کی جائے گی۔ یعنی کسی گروہ کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

XS
SM
MD
LG