رسائی کے لنکس

بلی کی حکمرانی


اوشیما کے خالی گھروں کو بلیوں نے آباد کر رکھا ہے۔ وہاں کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں بلیوں کے جھتے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اتنی وحشی اور جنگلی ہو چکی ہیں کہ لوگوں کو ان سے خوف آتا ہے۔

جاپان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر بلیوں کا راج ہے ۔ وہاں آپ کو ہر جانب بلیاں شیروں کی سی شان بے نیازی سے چلتی بلکہ غراتی اور دھاڑتی ہوئی بھی نظر آئیں گی۔ جب کہ دوسری جانب دنیا بھر کے شیروں پر، چاہے وہ جنگلوں میں ہیں یا آبادیوں میں، کڑا وقت آیا ہوا ہے۔

قصے کہانیوں میں لکھا ہے کہ بلی شیر کی خالہ ہے۔ اس نے شیر کو سارے شاہانہ رموز سکھائے سوائے درخت پر چڑھنے کے۔ لیکن قصہ خواں شاہد یہ بتانا بھول گئے کہ بلی نے شیر کو دل میں اترنے کا طریقہ بھی نہیں بتایا تھا۔

دل میں اترنے کا ہنر بلی سے زیادہ شاید ہی کسی اور جانور کو آتا ہو۔ پالتو جانور کے طور پر دنیا بھر میں جتنے ناز نخرے بلی کے اٹھائے جاتے ہیں، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آتے۔ خاص طور پر جاپان میں، کیونکہ وہ اسے ایک مقدس جانور کا درجہ دیتے ہیں۔

بلیاں غالباً کھلی فضا کا لطف اٹھا رہی ہیں۔
بلیاں غالباً کھلی فضا کا لطف اٹھا رہی ہیں۔

بلیوں سے جاپانیوں کی عقیدت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ایک پورا جزیرہ ہی انہیں سونپ دیا ہے۔ اس جزیرے میں بلیاں، بلی کی طرح نہیں بلکہ شیر کی خالہ کی طرح رہ رہی ہیں ۔ ان میں شیروں جیسی وحشت، درندگی اور کرختگی ہے۔ جاپانیوں کا کہنا ہے کہ اوشیما کی بلیوں کے ساتھ رہنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

اوشیما کا رقبہ 125 ایکڑ کے لگ بھگ ہے اور وہاں پر حقیقی معنوں میں بلیوں کی حکمرانی ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔ لیکن چند سال پہلے تک وہاں انسانی آبادی محض 20 سے 30 کے لگ بھگ بوڑھے جاپانیوں پر مشتمل تھی جنہیں گھر سے باہر نکلنے کے لیے لاٹھی کی ضرورت پڑتی تھی، سہارے کے لیے نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے۔

اوشیما ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ جاپان سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گھنے درختوں سے گھرا یہ جزیرہ چند عشرے پہلے تک ایک تجارتي مرکز تھا۔ اور یہ علاقہ ریشم کی کیڑے پالنے کے لیے شہرت رکھتا تھا۔ 1945 میں اس کی آبادی ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔ زیادہ تر لوگ ریشم کی صنعت سے وابستہ تھے۔ یہاں گھر، سڑکیں، سکول، ڈاکخانہ، ہوٹل، بازار، بجلی، پانی، نکاسی آب، غرض مکمل شہری زندگی اپنا وجود رکھتی تھی اور جاپان کے ساحل سے جزیرے تک کشتیوں اور فیری کی آمد ورفت جاری رہتی تھی۔

اوشیما کا ایک فضائی جائزہ
اوشیما کا ایک فضائی جائزہ

پھر ہوا یہ کہ جزیرے پر کہیں سے چوہے آ گئے اور ریشم کے کیڑوں کو کھانے لگے، جس سے مقامی صنعت کو بھاری نقصان پہنچا۔ جب چوہوں کو مارنے کے تمام طریقے ناکام ہو گئے تو کسی سیانے نے بلیاں پالنے کا مشورہ دیا۔ پھر کیا تھا، ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بلیاں پالنی شروع کر دیں۔

بلیوں سے چوہے تو ختم ہو گئے، لیکن کاروباری سرگرمیاں بحال نہ ہو سکیں کیونکہ ریشم کے تاجروں کی توجہ دوسرے علاقوں کی جانب منتقل ہوگئی تھی اور انہوں نے وہاں اپنے مراکز قائم کر لیے تھے۔

جب کام کاج نہ رہا تو لوگ روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں میں جانے لگے اور پھر رفتہ رفتہ انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو بھی بلا لیا۔ گھر کے مکین چلے گئے، صرف بلیاں باقی رہ گئیں۔ کیونکہ جاپان کے اکثر گنجان آباد علاقوں میں پالتو جانور رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ عیاشی صرف دیہی آبادی اور بڑے گھروں والے ہی کر سکتے ہیں۔

جب لوگ ہی نہ رہے تو ان سے وابستہ ادارے بھی بند ہونے لگے، دکانیں بند ہوئیں، ہوٹل بند ہوئے، سکول اور ڈاک خانہ بند ہوا ۔ اور جب بنیادی ضرورت کی چیزیں ہی ناپید ہو گئیں تو رہی سہی آبادی نے بھی اپنا سامان سمیٹا اور جدھر اپنی بقا نظر آئی ادھر کی راہ لی۔ صرف گنتی کے وہ بوڑھے رہ گئے جنہیں اپنے گھر اور مٹی سے پیار تھا۔

بڑی بی کی یہ لاٹھی بلیوں سے بچنے کے لیے ہے۔
بڑی بی کی یہ لاٹھی بلیوں سے بچنے کے لیے ہے۔

اوشیما میں مردم شماری تو ہوتی رہی ہے، لیکن کبھی بلی شماری نہیں ہوئی۔ ان کی تعداد کے بارے میں صرف اندازے لگائے جاتے رہے ۔ تقریباً دس سال پہلے کہا گیا تھا کہ بلیوں کی تعداد مقامی انسانی آبادی کے مقابلے میں سات سے دس گنا زیادہ ہے۔ اب وہ بڑھ کر کتنی ہو چکی ہیں، کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ لوگوں کے جانے کے بعد سے بلیوں کی پیدائش کی منصوبہ بندی پر کوئی کنٹرول نہیں رہا اور وہ بے دھڑک بچے پیدا کر رہی ہیں۔

اوشیما کے خالی گھروں کو بلیوں نے آباد کر رکھا ہے۔ وہاں کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں بلیوں کے جھتے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی کھانے کی چیز نظر آئے تو وہ اس پر چھینا جھپٹی ہوتی ہے ۔وہ ایک دوسرے پر غراتی اور لڑتی ہیں۔ وہ اتنی وحشی اور جنگلی ہو چکی ہیں کہ لوگوں کو ان سے خوف آتا ہے۔

اوشیما میں کوئی پالتو یا جنگلی کتا نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جاپانی بلی کو خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں ۔ اوشیما والوں کی عقیدت کا تو یہ عالم ہے کہ وہاں بلیوں سے موسوم ایک عبادت گاہ بھی موجود ہے۔ ویسے بھی اگر کوئی کتا وہاں چلا جائے تو وہ وحشی بلیوں کے خوف سے خود ہی سمندر میں کود جائے گا۔

آج کل جاپان کے ساحل سے اوشیما کا واحد رابطہ ایک پرانی فیری ہے جس پر 34 مسافروں کی گنجائش ہے۔ سوشل میڈیا پر بلیوں کی تصویریں اور خبریں شائع ہونے کے بعد سے وہاں سیاحوں کی آمد ورفت شروع ہو گئی ہے۔ انہیں فیری پر سوار ہونے سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں اپنے ساتھ رکھ لیں کیونکہ جزیرے میں پانی اور سوڈے کی بوتلوں تک کی وینڈنگ مشین نہیں ہے۔

فیری کا استقبال درجنوں بلیاں کرتی ہیں۔
فیری کا استقبال درجنوں بلیاں کرتی ہیں۔

بلیوں کو بھی پتا چلا چل گیا ہے کہ انہیں دیکھنے کے لیے آنے والوں کے پاس کھانے پینے کو ہوتا ہے، چنانچہ جب فیری کے آنے کا وقت ہوتا ہے تو گودی پر موٹی تازی درجنوں بلیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں۔

ٹورسٹ انہیں کھانے کو دیتے ہیں اور بدلے میں بلیاں انہیں اپنے ساتھ سیلفیاں بنوانے دیتی ہیں۔

  • 16x9 Image

    جمیل اختر

    جمیل اختر وائس آف امریکہ سے گزشتہ دو دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ وہ وی او اے اردو ویب پر شائع ہونے والی تحریروں کے مدیر بھی ہیں۔ وہ سائینس، طب، امریکہ میں زندگی کے سماجی اور معاشرتی پہلووں اور عمومی دلچسپی کے موضوعات پر دلچسپ اور عام فہم مضامین تحریر کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG