رسائی کے لنکس

logo-print

کردوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، امریکی فیصلے پر عرب اتحادیوں کی تشویش


فائل فوٹو

ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کردی ہے جب کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے اتحادی کردوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ تاہم عرب ممالک اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سیرین ڈیمو کریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) نے امریکہ کے فوج کے شام سے انخلا کے اعلان کی مذمت کی ہے۔

ترکی ’وائی پی جی‘ کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے، جو 2003ء سے اب تک سیرین ڈیمو کریٹک فورسز کے ساتھ مل کر عراق اور شام میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما رہا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ کرد قیادت کی فوجوں کی سرحد پر موجودگی سے ترکی میں دہشت گردی کے خدشات اُبھرتے ہیں۔ ترکی شمالی شام کے علاقے میں 'محفوظ زون' کے قیام کا خواہاں ہے، تاکہ، بقول اس کے، ترکی میں داخل ہونے والے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کو اپنے ملک واپس بھیجا جا سکے۔

اس ضمن میں، اردن کے تجزیہ کار اسامہ الشریف کا کہنا ہے کہ ’’یقیناً علاقے میں امریکی اتحادیوں کے لیے یہ ایک سنجیدہ اور پریشان کن پیغام ہے۔ یعنی کوئی بھی صدر ٹرمپ پر اعتبار نہیں کر سکتا کہ وہ ضرورت پڑنے پر مدد کریں گے۔‘‘

انھوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں 'آرامکو' پر حملے کے بعد بھی امریکہ کا رد عمل توقع سے کم تھا۔ خود اسرائیل بھی امریکہ کے اس تازہ فیصلے پر حیران اور پریشان ہے۔

اسامہ شریف کے بقول، امریکہ نے یہ سوچے بغیر کہ کردوں نے داعش کو شکست دینے کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں، کردوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ اور ترکی کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ کردوں کے خلاف بلا روک ٹوک کارروائی کرے۔ اب اس بارے میں لاتعداد سوالات کھڑے ہو رہے ہیں کہ ترکی کا اگلا قدم کیا ہو گا۔‘‘

شمالی شام میں عیسائیوں نے کردوں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ کی۔ سیریا نیشنل کونسل کے سیاسی لیڈر، بسام اسحٰق کہتے ہیں کہ ’’امریکہ نے بے وفائی کی ہے۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے کو منفی طور پر ہی دیکھا جائے گا۔ اس سے 1915ء کے قتل عام کے واقعے کی تجدید کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ترکی پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا، چونکہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اس کا سلوک اچھا نہیں رہا، چاہے وہ عیسائی ہوں یا یزیدی۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو شام سے فوج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’’ہم کردوں کو یک و تنہا نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ ان کی خصوصی حیثیت ہے اور وہ بہترین جنگجو ہیں۔‘‘

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کرد داعش کے ان ہزاروں قیدیوں کو بھی سنبھال نہیں سکیں گے جو انھوں نے داعش کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پکڑے ہیں۔ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ کرد شام کے رہنماؤں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG