رسائی کے لنکس

logo-print

سروسز چیفس کی مراعات کو عام نہیں کیا جانا چاہیے؟


یہ پہلا موقع ہے کہ سپریم کورٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت اور مراعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے ایوانِ زیریں (قومی اسمبلی) نے آرمی چیف سمیت تمام مسلح افواج کے سربراہان کی مدِت ملازمت اور مراعات سے متعلق ایکٹس میں ترامیم کے بلوں کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ سپریم کورٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت اور مراعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیے جانے سے اس کے پاک فوج پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق پاکستان فوج کے ریٹائرڈ افسران سمجھتے ہیں کہ اس سے ایک 'بلاک' لگ جاتا ہے، جبکہ سروسز چیفس کی مراعات کو پبلک کرنے سے متعلق سابق فوجی افسران سمجھتے ہیں کہ ان مراعات کو عام نہیں کیا جانا چاہیے۔

آرمڈ فورسز ایکٹس پر بحث کے مسلح افواج پر اثرات

دفاعی تجزیہ کار اور سابق لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ آرمی چیف سمیت مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت اور مراعات کو سپریم کورٹ اور قومی اسمبلی میں زیرِ بحث لائے جانے کو پاک فوج میں مثبت طریقے سے نہیں لیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج یہ سمجھتی ہے کہ آرمی چیف ہو یا چیف آف نیول اسٹاف، یہ شخصیات نہیں بلکہ ادارے ہیں۔ ان کو اس طریقے سے زیر بحث نہیں آنا چاہیے۔

اُن کے بقول، ’’اگر اب یہ عہدے زیر بحث آ ہی گئے ہیں تو ان پر مختلف قسم کی آرا آئی ہیں۔ ان سب کے پاک فوج پر اثرات مثبت اثرات نہیں پڑے۔‘‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ان موضوعات پر بحث نہیں ہونی چاہیے تھی۔

بری، بحری اور فضائیہ سے متعلق سروسز ایکٹس کی قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظوری پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائڑد امجد شعیب سمجھتے ہیں کہ بڑی جماعتوں کی طرف سے متفقہ طور پر بلز کی منظوری کو مسلح افواج میں بہت ہی حوصلہ افزا سمجھا جائے گا۔

جنرل (ر) امجد شعیب کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں منظور کردہ بلز سے افواج کا حوصلہ بڑھا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک ملک کے دفاعی اداروں کا تعلق ہے، اس کے بارے میں تمام سیاسی جماعتیں ان کو متنازع نہیں بنانا چاہتیں۔ اُن کے بقول، ’’سیاسی جماعتیں کوئی ایسا تنازع پیدا نہیں کرنا چاہتیں کہ اس سے افواجِ پاکستان کے مورال پر کوئی اثر پڑے۔‘‘

آرمی چیف کی ایکسٹینشن اور فوج کا تنظیمی ڈھانچہ

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے بری فوج کے تنظیمی ڈھانچے پر اثرات سے متعلق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے سے ایک بلاک لگ جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے سے ان کے نیچے والے لیفٹیننٹ جنرلز کو ایسی کوئی پوسٹنگ نہیں دی جاتی، جس پر فور اسٹار جنرلز پروموٹ ہو سکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج میں بہت سارے ایسے لوگ ہوں گے جو فور اسٹار بننے کے اہل ہوں گے۔ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کی وجہ سے ان لوگوں میں 'بد دلی' پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ سوچتے ہیں کہ پھر ہم کیوں محنت کریں۔ ان کے بقول، اگر آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینا مجبوری ہے تو پھر حکومت کو ان کے نیچے لوگوں کا بھی خیال کرنا چاہیے۔ بقول ان کے، ’’ان کے لیے یا تو حکومت کوئی سلاٹ بنائے، تاکہ باقی لوگوں کو بھی ان کا حق مل سکے‘‘۔

دوسری طرف، سابق لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیے جانے سے متعلق قانون سازی کے بعد لیفٹننٹ جنرلز کی مدت ملازمت بڑھائے جانے سے متعلق بھی نظام بنانا پڑے گا۔

امجد شعیب سمجھتے ہیں کہ اگر ایک کور کمانڈر چھ یا سات سال کے لیے آرمی چیف رہے اور باقی کے کور کمانڈرز چار چار سال پورے کرکے ریٹائر ہوتے رہیں تو پھر آپ کو جب چھ سال بعد نیا آرمی چیف مقرر کرنا ہوگا تو پھر پاک فوج کو اتنے تجربہ کار لوگ نہیں مل سکیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورت میں آپ کو ایسا نظام ضرور بنانا پڑے گا جہاں نیچے والوں کی بھی ملازمت کی مدت بڑھائی جائے۔

سروسز چیفس کی مراعات

آرمی چیف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان کو دی جانے والی مراعات سے متعلق سوال پر لیفٹننٹ جنرل غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ انہیں پبلک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اراکین اسمبلی کی مراعات عوام کے لیے دستیاب ہونے اور سروسز چیفس کی مراعات سامنے لائے جانے سے متعلق سوال پر جنرل غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور وزرا کا کیا موازنہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی ملک چلانے کے لیے فیصلے کرتے ہیں، جبکہ آرمی چیف کے لیے چیزیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’آرمی چیف بعد از ریٹائرمنٹ کوئی نیا کام تو کر نہیں سکتا، ایسی صورت میں آرمی چیف ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کرے گا؟‘‘

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ’’کیا آرمی چیف کو یہ فکر پڑی رہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد روٹی کہاں سے کھانی ہے؟‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک سابق آرمی چیفس کی 'دیکھ بھال' کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ مسلح افواج کے ایکٹس کی قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظوری کے بعد ایکٹس چیئرمین سینیٹ کی طرف سے ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG