رسائی کے لنکس

logo-print

ترمیمی آرمی ایکٹ کو عدالت میں چیلنج نہ کرنے کی شق کتنی مؤثر ہے؟


پاکستان کی سپریم کورٹ

نومبر کے آخری ہفتے میں جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سامنے آیا تو عدالت نے ایک لمبی بحث کے بعد حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا تاکہ فوج کے سربراہ کی تعیناتی اور توسیع ملازمت پر جامع قانون سازی کی جا سکے، جس میں جنرل باجوہ کی ملازمت میں دی گئی تین سالہ توسیع کو بھی نئے قانون سے مشروط کر دیا گیا۔

تین جنوری 2020 کو حکومت نے ایوان زیریں میں تین بل پیش کیے جو سربراہان افواج کی تقرری اور توسیع سے متعلق قوانین میں ترمییم تجویز کرتے ہیں۔

اس بل کے جہاں بہت سے اہم نکات پر تمام سیاسی جماعتیں بات کر رہی ہیں، وہیں اس میں ایک ایسی شق بھی پیش کی گئی جس کے مطابق سربراہان افواج کی توسیع و تقرری نہ تو زیر بحث آئے گی اور نہ ہی عدالت میں چیلنج کی جا سکے گی۔

اس شق کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہر قانون علی ظفر نے بتایا کہ کوئی بھی قانون یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے عدالت کے روبرو نہیں پیش کیا جا سکتا، لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 199 اور 184 کے مطابق یہ شق خود بخود بے اثر تصور کی جائے گی کیونکہ آئینی عدالتوں کو جن میں عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ شامل ہیں، کسی طور پر محدود نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کونسا معاملہ سن سکتی ہیں اور کونسا نہیں۔

اس قانون کے سیاسی پارٹیوں پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ اس پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ماضی قریب میں مسلم لیگ نواز نے ایک واضح موقف اپنایا تھا کہ سول بالا دستی کو اہمیت دی جانی چاہیے، لیکن آرمی ترمیمی بل پر جس طریقے سے ’نون‘ اس وقت حکومت کی ہم آواز دکھائی دی دہی ہے، اس سے سول سپرمیسی خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اگر کسی حکمت عملی کے تحت ساتھ دینا مجبوری تھی تو بھی ایسا کرنے کا طریقہ کار درست نہیں۔ البتہ انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ کسی شق کی موجودگی اس قانون کو عدالت میں چیلینج ہونے سے روک سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے صرف تین ہی آئینی طریقے ہیں، جن میں تحریک عدم اعتماد کا آنا، اسمبلیوں کا اپنی مدت پوری کر لینا اور وزیر اعظم کا مستعفی ہونا ہیں۔ لیکن کئی عدالتی فیصلے ایسے آ چکے ہیں، جن کی بدولت کچھ وزائے اعظم گھر پہنچ گئے۔

انہوں نے توہین عدالت کے اس کیس بھی کا حوالہ دیا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجا گیا تھا۔

ان کا موقف تھا کہ یہ سب عدالتوں کی صوابدید پر ہے، لیکن یہاں ذکر عدالت عالیہ اور عظمیٰ کا ہو رہا ہے۔

علی ظفر کے بقول ایسی شق کا یہ فائدہ ضرور ہو سکتا ہے کہ سول یا چھوٹی عدالتیں افواج کے سربراہان کے حوالے سے کوئی پٹیشن سننے کی مجاز نہیں رہیں گی، مگر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس سے مبرا ہیں۔

سیاسی مبصرین یہی سمجھتے ہیں کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی قانون کے مختلف پہلووں پر تنقید کرنے کے بعد ایک جائزہ پینل بنانے کا اعلان کر چکی ہے، وہیں دفاع کی قائمہ کمیٹی میں اس بل کا متفقہ طور پر منظور ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی پارٹیوں، خاص طور پر مسلم لیگ نون نےخود کو صرف بل کے تکنیکی پہلووں پر تنقید تک ہی محدود کر لیا ہے اور زیادہ تر لیگی ممبران اور قائدین اس کے کسی قانونی پہلو کو زیر بحث نہیں لا رہے۔ اور نہ ہی ملکی سیاسی منظر نامے پر اس کے ممکنہ اثرات کا ذکر ہو رہا ہے۔

مسلم لیگ نون کے قائدین یہ کہتے ہیں کہ بل میں اب بھی بہت سے ایسے مسائل ہیں جس پر نون لیگ کا ساتھ دینا یا نہ دینا برابر ہے، کیونکہ وہ سقم بنیادی قانونی نوعیت کے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد سینیٹر مشاہد اللہ نے وی او اے و کو بتایا کہ افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مسلم لیگ ن میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کو دیکھا جائے تو وہ وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اب اس کو ایک قانونی شکل دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بل کی متعدد شقوں پر بحث بھی ہوئی ہے اور اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے اور عدالت میں نہ قابل سماعت ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آ چکا ہے، مگر ان کے بقول اس وقت وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ہے اور اس معاملے پر فیصلے کی ذمہ داری ان کی ہی ہے۔ جب کہ نون لیگ یہ سمجھتی ہے کہ وہ تمام بنیادی اعتراضات جو سپریم کورٹ نے اٹھائے تھے، ان کا جواب اب بھی بل میں موجود نہیں۔ جیسے کہ وہ کونسی وجہ ہے جس کی بنا پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ناگزیر ہے۔ دوسری طرف عمر کہ حد کا معاملہ ہے۔

مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال ہے تو اس ملازمت میں نئی عمر کی حد کس طرح مقرر کی جا سکے گی۔

اس تمام صورت حال میں مجوزہ بل جہاں اداروں کے درمیان طاقت کے توازن میں بہتری لانے کی ایک کوشش ہے، وہیں کئی تجزیہ کار اور سیاست دان یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں اب بھی توجہ طلب سقم موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG