رسائی کے لنکس

اِن میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو منشیات اسمگل کرنے کے الزام کے تحت زیر حراست ہیں۔ یہ بات سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے عہدیداروں نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتائی ہے

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لگ بھگ نو ہزار پاکستانی مختلف نوعیت کے الزامات کے تحت مختلف ملکوں میں قید ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو منشیات اسمگل کرنے کے الزام کے تحت زیر حراست ہیں۔

یہ بات سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے عہدیداروں نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتائی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کے رکن اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر لفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے بدھ کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ وہ افراد جو بیرون ملک منشیات اسمگل کرنے کی مبینہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں وہ ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہاں سے جب لوگ جاتے ہیں یا یہاں جو نیٹ ورک اس کام میں (مبینہ طور) پر ملوث ہیں یا پاکستان اور افغانستان کے درمیاں سرحد کو استعمال کرتے ہوئے اور پھر باہر جاتے ہیں ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں اسے روکنا ہے۔"

لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی حصول روزگار کے لیے بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد خلیج کے عرب ملکوں خاص طور سعودی عرب میں کام کرتی ہے۔

سینیٹ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک خاص طور پر سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اب کمی آرہی ہے اور دوسری طرف ایک بڑی تعداد میں پاکستانی ملک واپس بھی آرہے ہیں۔

اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اس رجحان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جسے مبصرین ملک میں روزگار کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے باعث تشویش قرار دے رہے ہیں۔

ماہر اقتصادیات، قیصر بنگالی نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ" سعودی عرب کی معیشت میں جدت آرہی ہے اب کافی سارے پاکستانیوں کے پاس ایسی ہنرمندی نہیں ہے جس کی اب وہاں ضرورت ہے اس لیے وہ واپس آرہے ۔۔۔ پاکستان (حکومت)کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ سروے کرے کہ وہاں پر جو پاکستانی ہیں وہ کس طرح کی صلاحیت کے حامل ہیں اور پھر ملک میں ایک منصوبہ بنائیں کہ انہیں کس طرح یہاں مقامی طور پر روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔"

جنرل عبدالقیوم نے کہا کہ حکومت کے متعلقہ ادارے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اُن کے بقول، "ہم نے کہا ہے کہ جب یہ ادھر (واپس) آتے ہیں سمندری پار پاکستانیوں کی وزارت کے متعلقہ لوگ یہ دیکھیں کہ جو لوگ واپس آرہے ہیں ان کو دوبارہ روزگار کیسے فراہم کیا جائے۔ ان کے بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کا انتظام کرنا اور بیرون ملک مارکیٹ میں روزگار کے مزید مواقع تلاش کرنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ لوگ دوبارہ بیرون ملک جا سکیں۔"

سینیٹ کی کمیٹی کو اس بارے میں بھی آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ سال ساڑھے چار لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب گئے۔ لیکن، رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف 70 ہزار پاکستانی وہاں گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG