رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر: داعش کے لیے مقامی نوجوان بھرتی کرنے کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ


بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپے مار کر ایک درجن افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد بھارتی کشمیر کے نوجوانوں کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) میں شامل کرانے کی سازش میں ملوث ہیں۔

این آئی اے کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے تین کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے کیوں کہ ان کے بارے میں یہ تصدیق ہو چکی تھی کہ وہ داعش کے فعال رکن ہیں۔

یہ چھاپے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر مقام سری نگر اور جنوبی ضلع اننت ناگ میں مارے گئے ہیں اور اس کارروائی میں 'این آئی اے' کو مقامی پولیس اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس 'سی آر پی ایف' کی مدد بھی حاصل تھی۔

جن افراد کو حراست میں لیا گیا اُن میں سری نگر کے دلال محلہ، نواب بازار میں قائم 'سراج العلوم' نامی ایک مدرسے کا مہتممِ اعلیٰ عدنان احمد ندوی بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ مدرسہ بھارتی ریاست اُتر پردیش کے ایک بڑے اسلامی دارالعلوم سے منسلک ہے۔

اتر پردیش اور مغربی بنگال میں بھی گرفتاریاں

لکھنؤ اور کولکتہ سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ قانون فافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ چند روز کے دوراں اُتر پردیش اور مغربی بنگال ریاستوں میں مختلف مقامات پر چھاپے مار کر پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد انتہا پسند تنظیموں جماعت المجاہدین اور انصار غزوۃ الہند سے وابستہ ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھارت میں مبینہ طور پر القاعدہ کی ایک شاخ کے طور پر سرگرم ہے۔

'این آئی اے' کا کہنا ہے کہ بھارتی کشمیر میں مارے گئے چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں ایسی متنازع دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات جن میں لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی شامل ہیں ضبط کر لیے گئے ہیں۔

بھارت کی سب سے بڑی انسدادِ دہشت گردی ٹاسک فورس

'این آئی اے' بھارت کی سب سے بڑی انسدادِ دہشت گردی ٹاسک فورس ہے جسے یہ اختیار حاصل ہے کہ یہ ملک کی کسی بھی ریاست یا علاقے میں مقامی انتظامیہ کی اجازت حاصل کیے بغیر از خود دہشت گردی سے متعلق جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھا سکتی ہے۔

یہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ برسوں میں بڑی سرگرم رہی ہے جہاں اسے مبینہ دہشت گردی کے کئی معاملات میں تحقیقات کرنے کا کام سونپا گیا جن میں فروری 2019 میں ضلع پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے اور حال ہی میں جموں میں بھارتی فضائیہ کے حساس ترین اڈے پر ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملے شامل ہیں۔

سری نگر میں 'این آئی اے' کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بھارت کے مسلم نوجوانوں کو داعش میں بھرتی کرا کے ان کے ذریعے ملک میں پرتشدد کارروائیوں کی سازش کا رواں برس جون میں پتا چلا تھا۔

اُن کے بقول اس ضمن میں غیر قانونی سرگرمیوں اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایک مقدمہ درج کر کے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

داعش بھارت میں آن لائن بھی سرگرم ہے، این آئی اے

این آئی اے ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ داعش کے نظریے کی ترویج کے لیے بھارت میں متعدد افراد جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے سرگرم ہیں اور انہوں نے ایسے علاقوں میں تشدد آمیز کارروائیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے جو سیاسی تنازعات یا دیگر وجوہات کی بنا پر کشمکش کی زد میں ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ عناصر مسلسل جرائم کے ارتکاب کی کوششیں اور سازشیں کر رہے ہیں اور فوری طور پر اثر قبول کرنے والے مسلم نوجوانوں کو داعش سے متعلق پروپیگنڈا مواد کی بنیاد پر اس میں بھرتی کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے 'دی وائس آف ہند' نام کا ایک آن لائن ماہانہ میگزین بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری کیا جاتا ہے۔ نیز تنظیم کے نظریے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے اور انہیں ہمنوا بنا کر انتہا پسند بنانے کے لیے سائبر اسپیس کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ تین برس کے دوراں بھارتی فوج، وفاقی سیکیورٹی فورسز اور مقامی پولیس کے شورش مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنی کارروائیوں کے دوراں درجنوں ایسے نوجوانوں کو ہلاک کر دیا اور بڑی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ انصار غزوۃ الہند اور دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسند یا رکن تھے۔

بھارتی کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ علاقے میں انصار غزوۃ الہند کا تقریباً صفایا کر دیا گیا ہے۔

'داعش کے لیے بھارت میں پنپنا آسان نہیں'

بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں اب ملک کے مختلف حصوں میں اپنی شاخیں قائم کرنے اور مسلمان نوجوانوں کو لبھانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔

لیکن تجزیہ کار پروفیسر نور احمد بابا کا کہنا ہے کہ مبینہ جبر، تشدد، تعصب اور امتیازی سلوک کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ احساس محرومی کا شکار ہے جو انہیں شدت پسندی کی طرف مائل کر سکتا ہے۔

لیکن داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے لیے ایک ایسے ملک میں پنپنا آسان نہیں جہاں سیکیورٹی فورسز اور خفیہ ادارے انتہائی فعال اور مضبوط ہوں۔

مزید سرکاری ملازمین برطرف

اس دوران بھارتی کشمیر کی انتظامیہ نے اپنے مزید 11 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ریاست میں بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے یا عسکریت پسندوں اور جماعتِ اسلامی اور دخترانِ ملت جیسی کالعدم تنظیموں کی معاونت کر رہے تھے۔

سرکاری ملازمت سے نکالے جانے والوں میں عسکری تنظیم حزبِ المجاہدین کے سربراہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کے دو بیٹے سید شکیل احمد اور سید شاہد یوسف بھی شامل ہیں۔

ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لیے حزب المجاہدین کو بیرون ملک سے غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی بھاری رقوم فراہم کر رہے تھے جس کی حکام کے بقول این آئی اے کی طرف سے کی گئی تحقیقات میں تصدیق ہوئی ہے۔

اس سے پہلے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا اور ان کے پیش رو نے تقریباً تین درجن سرکاری ملازمین کو اُن کے بقول 'ملک کے مفاد میں' نوکریوں سے نکالنے کے احکامات کی توثیق کی تھی۔

سرکاری حکم ناموں میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں آئینِ ہند کی دفعہ 311 (2) کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں۔

لیکن بھارتی کشمیر کی کئی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں نے سرکاری ملازموں کو برطرف کرنے کے ان اقدامات کی مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ کشمیری مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہے جس کا آغاز پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر کے کیا گیا تھا۔

حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے قائم کی گئی ایک بااختیار کمیٹی نے مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی ان ملازمین کو برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG