رسائی کے لنکس

logo-print

’آرٹ تھراپی‘ سے بچوں کی ذہنی الجھنیں دور ہو سکتی ہیں: تحقیق


آرٹ کے ذریعے بچوں کو نہ صرف اپنی ذات کے اظہار کے لیے ایک ذریعہ میسر آتا ہے، بلکہ ان کا اپنی ذات پر اعتماد بھی بڑھ جاتا ہے

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے ننھے ننھے بچوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ ان کی بھی ذہنی الجھنیں ہوسکتی ہیں، جنہیں اگر بروقت نہ سلجھایا جائے تو بچوں کی شخصیت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے برطانیہ میں 2002ء میں 5 سے 16 برس کی عمر کے بچوں کے لیے جن کے رویے مختلف تھے یا جو کسی جذباتی کشمکش کا شکار تھے، ’آرٹ رُوم پروگرام‘ کا آغاز کیا گیا۔

اس وقت پورے برطانیہ میں نو آرٹ روم پروگرامز چلائے جا رہے ہیں۔ پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 10000 سے زائد بچے اس کا حصہ بن چکے ہیں۔

’دی آرٹ اِن سائیکوتھراپی‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، تحقیق دانوں کو معلوم ہوا کہ جب بچے اس آرٹ کلاس میں حصہ لیتے ہیں، تو آرٹ کلاس کے اختتام پر ایسے بچوں کے رویے میں مثبت تبدیلی اور ڈپریشن میں واضح کمی نوٹ کی گئی۔

آرٹ کلاسز کے باعث ان ننھے بچوں کا اپنی ذات پر اعتماد بھی بڑھا اور ان کے رویوں میں واضح طور پر تبدیلی نوٹ کی گئی۔

ان آرٹ رومز میں ایک ایسا ماحول بنایا جاتا ہے جہاں پر بچے اپنی صلاحتیں زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکیں اور جہاں پر بچے آرٹ کے ذریعے اپنی ذہنی و تخلیقی صلاحتیوں کا کھل کر اظہار کر سکیں۔ اس سے انہیں اپنی ذات کے حوالے سے الجھنیں آرٹ کی شکل میں باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے بچے سکول کے ماحول میں ہی اپنی ذات کے حوالے سے زیادہ بہتر طریقے سے اظہار کر سکتے ہیں۔ آرٹ کے ذریعے بچوں کو نہ صرف اپنی ذات کے اظہار کے لیے ایک ذریعہ میسر آتا ہے بلکہ ان کا اپنی ذات پر اعتماد بھی بڑھ جاتا ہے۔

رنگوں سے کھیلنے کی وجہ سے بچے بہتر محسوس کرتے ہیں۔ ان کی ذہنی الجھنیں سلجھنے لگتی ہیں اور انہیں اپنی زندگی بامقصد دکھائی دیتی ہے۔

XS
SM
MD
LG