رسائی کے لنکس

logo-print

'خوف تو ہے لیکن گائیکی نہیں چھوڑوں گی'


مسکان اپنا فنی سفر جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبے میں غیرت کے نام پر خواتین فنکاروں کے قتل سمیت اس جیسے واقعات کے باعث فنکار برادری میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

سوات کا خونی چوک

خیبر پختونخوا میں گزشتہ دس برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب سوات میں شام کے بعد لوگوں کا گھروں سے نکلنا محال تھا۔ ایسے میں گائیکی یا دیگر تفریحی سرگرمیوں کا نام لینے سے بھی لوگ گھبراتے تھے۔

سوات کا 'گرین چوک' میں، جسے آج بھی لوگ خونی چوک کے نام سے پکارتے ہیں، وہاں لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی نعشیں سرعام چوراہے میں لٹکا دی جاتی تھیں۔

ایسی ہی ایک صبح مشہور گلوکارہ اور رقاصہ شبنم کی نعش بھی وہاں سے ملی تھی۔ مقامی افراد کے مطابق شبنم کو گھر سے گھسیٹ کر لایا گیا اور اس چوک میں قتل کر دیا گیا۔

غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ

خیبرپختونخوا میں طالبان کا اثر و رسوخ کم ہونے کے باوجود فنکار کمیونٹی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ فنکاروں پر تشدد کرنے اور انہیں قتل کیے جانے کے واقعات آج بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔

ان واقعات میں یا تو انتہا پسند انھیں نشانہ بناتے ہیں یا پھر وہ غیرت کے نام پر اپنے ہی عزیز و اقارب کے ہاتھوں نشانہ بن جاتے ہیں۔

رمضان کے مہینے میں سوات کی ایک معروف گلوکارہ مینا خان کو شوہر نے گھر میں قتل کر کیا تھ جس کی خبریں کئی دن تک سوشل میڈیا اور اخبارات کا موضوع بنی رہیں۔

'خیال آتا ہے کہ یہ شعبہ ہی چھوڑ دیں'

مسکان فیاض سوات کی ابھرتی ہوئی نوجوان گلوکارہ اور دسویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ مینا خان کے بہیمانہ قتل کو یاد کرتے ہوئے مسکان کہتی ہیں کہ ایسے واقعات فنکاروں کے دل میں خوف و دہشت پیدا کرتے ہیں اور وہ یہ شعبہ چھوڑنے کے متعلق سوچنے لگتے ہیں۔

مسکان خوفزدہ بھی رہتی ہیں تاہم پرعزم بھی ہیں۔
مسکان خوفزدہ بھی رہتی ہیں تاہم پرعزم بھی ہیں۔

مسکان پھر بھی پرعزم ہیں کہ وہ اپنا فنی سفر جاری رکھیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطٰی کے ممالک اور افغانستان میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔

مسکان سوات کی مشہور گلوکارہ غزالہ جاوید کی قریبی عزیز ہیں۔ غزالہ جاوید کو اس کے شوہر نے 2012ء میں گھریلو ناچاقی پر پشاور میں قتل کر دیا تھا۔

مسکان کے والد فیاض خان کہتے ہیں کہ فنکاروں کے آئے روز قتل اور انہیں ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے وہ خوفزدہ رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یا تو فنکاروں کو فنکشنز کے دوران یا بعد میں ٹیلی فون پر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ اب یہ شعبہ بہتر ذریعہ معاش نہیں رہا۔ پہلے کام زیادہ تھا۔ اب یہ بہت کم رہ گیا ہے۔

فیاض خان کا یہ بھی شکوہ ہے کہ جو لوگ فن اور ادب سے آشنائی نہیں رکھتے وہ فن کی عزت کیسے کر سکتے ہیں۔

'ہم تو آج بھی کسی نہ کسی طریقے سے فن کا علم اٹھائے اس کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مشکلات کے باوجود لوگوں میں خوشیاں بانٹیں۔'

فیاض خان کے بقول مشکلات کے باوجود وہ کام کر رہے ہیں۔
فیاض خان کے بقول مشکلات کے باوجود وہ کام کر رہے ہیں۔

شیر عالم شنواری پشتو ثقافت اور موسیقی پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ فیاض خان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فنکار ہمارے معاشرے کا ایک بے ضرر طبقہ ہے۔ کبھی دہشت گرد ان کو ستاتے ہیں تو کبھی جرائم پیشہ طبقہ ان کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔

ان کے بقول 'جب وہ کچھ کمانے لگتے ہیں اور معاشرے میں ان کا مقام بن جاتا ہے تو بہت سارے ایسے واقعات میں ان کے اپنے گھر والے ہی ان فنکاروں کے دشمن بن جاتے ہیں۔'

خواجہ سراؤں کے قتل کے بڑھتے واقعات

خیبر پختونخوا میں گزشتہ عرصے میں خواجہ سراؤں کے قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں متعدد خواجہ سرا قتل ہو چکے ہیں۔

خواجہ سراؤں کے قتل میں یا تو ان کے قریبی عزیز و اقارب ملوث ہوتے ہیں یا ان واقعات میں دیگر عوامل کا ہاتھ ہوتا ہے۔ حال ہی میں نوشہرہ میں ایک خواجہ سرا کو مبینہ طور پر اس کے اپنے ہی والد نے قتل کر دیا تھا۔

'فنکار نقل مکانی بھی کر رہے ہیں'

خیبرپختونخوا میں دھمکیوں اور نامساعد حالات کے باعث کئی اہم گلوکار اور فنکار علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ مشہور گلوکار گلزار عالم اپنے آبائی علاقے پشاور کو چھوڑ کر کابل میں مقیم ہیں۔ اسی طرح جانان کے نام سے مشہور عالمزیب مجاہد آج کل بيرون ملک ٹیکسی چلا رہے ہیں۔

پشاور کے صحافی لحاظ علی کہتے ہیں کہ پشتون ثقافت سے لگاؤ رکھنے والے فنکاروں کی پریشانی جائز ہے۔ متعدد فنکار یہ پیشہ چھوڑ چکے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں انھیں مختلف مسائل کا سامنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG