رسائی کے لنکس

logo-print

خطے کی ترقی کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے: افغان صدر


افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ جب تک علاقائی ترقی نہیں ہوگی، کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انھوں نے یہ بات جمعے کے روز لاہور میں پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

افغان صدر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کو بجلی دینا چاہتا ہے اور پاکستان کو وسط ایشائی ممالک سے جوڑنا چاہتا ہے، جس کے بدلے وہ پاکستان سے بھی ایسے ہی مواقع چاہتا ہے۔

اس ضمن میں انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان مزید بات چیت ہوگی۔

افغان صدر نے کہا کہ ’’پاکستان سے افغانستان دو چیزیں چاہ رہا ہے۔ ایک تو افغانستان چاہتا ہے کہ اگر پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی درکار ہے تووہ اُس کے بدلے پاکستان افغانستان کو بھارت تک رسائی دے۔ دوسرا، افغانستان یہ چاہتا ہے کہ اُن کے پاس جو روڈ اور انرجی لنکیجز پیدا ہو رہے ہیں، اُس سے پاکستان اگر خود کو جوڑ لے تو وہ پاکستان کو بجلی چار سینٹ پر دے سکتے ہیں‘‘۔

افغانستان نے خود کو ترکمانستان، قازقستان اور خطے کے دیگر ملکوں سے جوڑ لیا ہے جہاں پر 30 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی ہے۔ افغانستان نے ان ممالک کے ساتھ اپنے بجلی گھروں کو جوڑ لیا ہے، جن سے وہ پاکستان کو بجلی دینا چاہتا ہے۔

اس سے قبل، افغانستان کے صدر اشرف غنی اپنے وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ان کا خیر مقدم کیا۔ اپنے اس دورے میں انہوں نے گورنر پنجاب اور تاجروں اور سرمایہ کاروں کے وفد سے بھی ملاقات کی۔

بعدازاں، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے معزز مہمان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔

گورنر ہاوس لاہور میں افغان صدر کی ملاقات پاکستان کے سرمایہ کاروں اور کاروباری افرادے سے ہوئی، جس میں وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد بھی موجود تھے۔

لاہور ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر الماس حیدر نے وائس امریکہ کو بتایا کہ افغانستان اب ملکی ترقی نہیں بلکہ علاقائی ترقی چاہتا ہے۔

لاہور ایوانِ صنعت و تجارت کے مطابق افغان صدر سمجھتے ہیں کہ اب خطے کے تمام ممالک کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر ترقی کرنا ہے تو سب کو مل کر ترقی کرنا ہو گی تاکہ خطے میں مجموعی ترقی ہو۔ کوئی اکیلا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک ایسا سوچ رہے ہیں۔

صدر انجمن تاجران آل پاکستان خالد پرویز کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان، پاکستانی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو تو کوئی ریلیف دے نہیں رہی ہے تو وہ

افغانستان جا کر کیا کریں گے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے خالد پرویز کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس میں صرف اُن تاجروں کو افغان صدر سے ملاقات کے لیے بلایا گیا جو حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔

خالد پرویز سمجھتے ہیں کہ افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے

درمیان ملاقات محض رسمی ہو گی جس کے کوئی نتائج نہیں نکلیں گے۔

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ وہ دو ارب 30 کروڑ ڈالر سے گھٹ کر ایک ارب 40 کروڑ پر آ گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان افغانستان کو گوشت، دودھ، سیمنٹ اور ملبوسات سمیت پندرہ مختلف اشیاء بھجواتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان کی منڈیوں میں بھارت اور ایران کی رسائی اور افغانستان پاکستان ٹرانزٹ

ٹریڈ ایگریمنٹ پر دونوں ملکوں کے عدم تعاون کے باعث پاکستان کا حصہ کم ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، سنہ 2012 میں پاکستانی مصنوعات کا افغانستان کی مارکیٹ میں حصہ 33 فیصد تھا، جو سنہ 2017 کے اختتام پرکم ہو کر 12 فیصد رہ گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG