رسائی کے لنکس

نیا عالمی تجارتی معاہدہ آر سی ای پی؛ کیا چین زیادہ فائدے میں رہے گا؟


ویت نام کے شہر ہنوئی میں ہونے والی علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری گروپ میں شامل 15 رکن ممالک کی ورچوئل کانفرنس کی تصاویر۔ 15 نومبر 2020
ویت نام کے شہر ہنوئی میں ہونے والی علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری گروپ میں شامل 15 رکن ممالک کی ورچوئل کانفرنس کی تصاویر۔ 15 نومبر 2020

نئے عالمی تجارتی معاہدے سے، جس پر حال ہی میں 130 ملکوں نے دستخط کیے ہیں، اور جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے امریکہ برسوں تک کوششیں کرتا رہا ہے، تجارتی ماہرین کے مطابق امریکہ کی نسبت چین کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں ہی اقتصادی شراکت داری کے جامع پروگرام، یعنی ریجنل کمپری ہنسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) میں شامل ہیں، وہاں کے تجزیہ کاروں کے اس معاہدے کے متعلق ملے جلے نظریات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں امریکہ کے لیے فائدے بھی ہیں اور چیلنجز بھی۔

آٹھ سال تک جاری رہنے والی گفت و شنید کے بعد نومبر 2020 میں حتمی شکل اختیار کرنے والے معاہدے آر سی ای پی کو ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشن نیشنز کے تمام ارکان سمیت آسٹریلیا، چین، جاپان، نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا نے قبول کر لیا ہے۔ ان تمام ممالک کی مجموعی قومی آمدنی کا حجم عالمی جی ڈی پی کا 30 فی صد ہے۔

چین، جاپان اور آسیان میں شامل دو ممالک پہلے ہی اس معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں۔ اسے رو بہ عمل ہونے کے لیے آسیان کے مزید چار ارکان اور آسیان کے ایک غیر رکن میمبر کی توثیق کی ضرورت ہے۔

آر سی ای پی کے بارے میں ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی) مذاکرات کو امریکہ کی حمایت حاصل رہی ہے، جب کہ یہ ایک مخالف تجارتی معاہدہ ہے جس میں امریکہ اور مغربی نصف کرہ ارض کے اس کے کچھ ہمسایہ ممالک بھی شامل ہیں، جب کہ چین اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر تجارت سٹیون سیوبو شنگھائی کانفرنس میں شریک ہیں۔ فائل فوٹو
آسٹریلیا کے وزیر تجارت سٹیون سیوبو شنگھائی کانفرنس میں شریک ہیں۔ فائل فوٹو

واشنگٹن میں دونوں فریقوں کے درمیان آزاد تجارت کے کسی نئے معاہدے کی مخالفت زور شور سے جاری رہی اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ٹی پی پی معاہدے سے الگ کر کے آر سی ای پی کے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کی۔

انٹرنیشنل ری پبلیکن انسٹی ٹیوٹ کے ایک سینئر ڈائریکٹر اور واشنگٹن میں قائم بروکنگز انسی ٹیوشن ریسرچ آرگنائزیشن کے فارن پالیسی پروگرام سے منسلک تجزیہ کار پیٹرک قوئرک کہتے ہیں کہ امریکہ پر مرتب ہونے والا اس کا ایک پہلو واضح ہے، وہ یہ کہ آر سی ای پی چین کے مفاد میں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اب بیجنگ بلاشبہ اپنی پھلتی پھولتی ہوئی معیشت کی آزادی اور اثر و رسوخ کو امریکہ کے کئی کلیدی علاقائی اتحادیوں تک پھیلا سکے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آرسی ای پی واشنگٹن کے اس کے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی مفاد کو کمزور کر دے گا، جب کہ ایشیا سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار آر سی ای پی کے بارے میں امریکی خدشات سے اتفاق کرتے دکھائی نہیں دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ ان تحفظات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹاڈ مک کلے ایشیا پیسیفک اکنامک کانفرنس کے موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو
نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹاڈ مک کلے ایشیا پیسیفک اکنامک کانفرنس کے موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

آسٹریلیا میں قائم، پرتھ یو ایس ایشیا سینٹر کے ریسرچ ڈائریکٹر جیفری ولسن کہتے ہیں کہ آر سی ای پی ممالک کی تجارت کا حصہ بلاک سے باہر کے ملکوں کے ساتھ نسبتاً کم ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آر سی ای پی عالمی تجارتی نظام میں ایک ایسے موقع پر امریکہ کو اخلاقی سہارا مہیا کرے گا، جب بائیڈن انتظامیہ ابھرتے ہوئے خطرات کے خلاف اصولوں پر مبنی تجارتی نظام کو تحفظ فراہم کرنے کی خواہش مند ہے۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے آسٹریلیا جاپان ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر شیرو آرمسٹرنگ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ امریکہ کے لیے ملے جلے اثرات لے کر آئے گا۔

انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہو گا کہ امریکہ اس معاہدے میں سب سے زیادہ نقصان میں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صورت حال قدرے پیچیدہ ہے۔ کچھ منڈیوں میں نسبتاً امریکہ کو نقصان ہو سکتا ہے، لیکن آر سی ای پی اس حصے میں منڈیوں کو ایک ایسے وقت میں دنیا کے لیے کھلا رکھنے میں مدد دے گا، جب اپنے ملک کی مصنوعات کو تحفظ دینے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ جینٹ یلین، لندن میں جی سیون کے اجلاس کے موقع پر۔ جون 2021
امریکی وزیر خزانہ جینٹ یلین، لندن میں جی سیون کے اجلاس کے موقع پر۔ جون 2021

آسٹریلیا کے سینیٹر ایرک ابٹز نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں امریکہ کے اتحادی یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ آر سی ای پی میں حصہ لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے، لیکن وہ احتیاط کے ساتھ یہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بدستور ہمارا سب سے اہم سٹرٹیجک ساتھی اور اتحادی ہے اور یہ چیز تبدیل نہیں ہو گی۔ لیکن دنیا کے اس حصے میں، جس میں ہم رہتے ہیں، ہمارے لیے ایک اہم تجارتی بلاک کا حصہ بننے کا تصور خوش کن ہے۔

XS
SM
MD
LG