رسائی کے لنکس

logo-print

’آسیہ بی بی پاکستان میں ہیں، نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا رہا‘


وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کے الزام میں سپریم کورٹ سے بری ہونے والی آسیہ بی بی اور اُن کا خاندان تاحال پاکستان میں ہیں اور انھیں حکومت کی جانب سے مکمل سکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔

منگل کو وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جب تک آسیہ بی بی کو کسی جرم میں مجرم قرار نہ دیا جائے، یا اس ضمن کوئی عدالتی حکم نہ ہو، اس وقت تک اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں کسی صورت نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد مذہبی جماعت تحریک لیبک کا ملک بھر ہونے والا احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے اُن کے ساتھ پانچ نکاتی معاہدہ کیا تھا۔

جس کے تحت آسیہ بی بی کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے قانونی کاروائی شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

گو کہ بعد میں حکومت کی جانب اس بارے تاحال کوئی کاروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔

ای سی ایل میں نام ڈالنے کی شرط کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ نظر ثانی کی اپیل ہر کسی کا قانونی اور شرعی حق ہے۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ اس ضمن سپریم کورٹ آف پاکستان جو حکم دے گی اس پر مکمل عمل درآمد ہو گا۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ ’جب تک کوئی مجرم قرار نہ دیا جائے، کوئی لیگل گراؤنڈ نہ ہو، اس وقت تک ای سی ایل میں کیسے نام شامل ہو گا، اس بات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔‘

آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج کیا (فائل فوٹو)
آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج کیا (فائل فوٹو)

ایک سوال کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں وہ غلط ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’ ہر پاکستانی خواہ اس کا تعلق کسی بھی مسلک یا مذہب سے ہو وہ ریاست پاکستان کی زمہ داری ہے اور پاکستان میں کسی کی جان و مال سے کھیلنے یا اپنی شرائط مسلط کروانے کے لیے کسی کو لائسنس نہیں دیا جا سکتا ہے۔‘

حالیہ دھرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر انھوں نے کہا کہ مہذب دنیا میں بھی بعض اوقات نفرت انگیز تقاریر ہوتی ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ آسیہ بی بی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اجتجاج شروع ہوا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا جس پر ہم نے انہیں (تحریک لبیک) انگیج کیا ہے، یہ میرے پاکستانی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی ہتھیار ڈالنے والوں کو قبول کیا جاتا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا احتجاج کرنے والوں نے بھی ہتھیار ڈالے ہیں، جس پر انھوں نے کہا کہ معاہدہ میں دل آزاری پر معذرت کی گئی ہے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ اجتجاج شروع ہونے کے بعد ہونے والے فیصلوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور اپوزیشن کی مشاورت کے بعد طاقت کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ بعض لوگ پرتشدد واقعات میں ملوث تھے ہم نے معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے قائدین کو فوٹیجز دکھائیں اور تحریک لیبیک نے شرپسندوں اور توڑپھوڑ کرنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت سینکڑوں افراد گرفتار ہیں جن کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ قانونی کی حکمرانے کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG