رسائی کے لنکس

logo-print

آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف کراچی میں احتجاجی مارچ


جماعت اسلامی کے زیر اہتمام کراچی میں آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف مارچ

سپریم کورٹ کی جانب سے مبینہ گستاخی رسول کے کیس میں قید ملزمہ کی رہائی کے فیصلے کے خلاف کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر حرمت رسول مارچ کیا گیا۔

مظاہرے سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے تحریک حرمت رسول شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حرمت رسول کی حفاظت کی جدوجہد میں خون کا آخری قطرہ تک قربان کردیں گے ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر ہرگز کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ گستاخانہ کلمات کیس میں ملزمہ آسیہ بی بی کی رہائی کا عدالتی فیصلہ امریکہ، مغرب، یورپ اور یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ فیصلے سے اسلام اور مسلمان دکھ اور صدمے سے دو چار ہوئے ہیں۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس حوالے سے فوری طور پر پوزیشن واضح کرے۔

سراج الحق نے تحریک حرمت رسول کا اعلا ن کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تحریک میں ملک کے ہر شہر میں حرمت رسول کی مہم چلائیں گے۔ ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سیاسی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے ایمان کا مسئلہ ہے۔ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔

جماعت اسلامی سندھ کے رہنما اسد اللہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت تحفظ ناموس رسالت کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کے جج نے ایک جج کی حیثیت سے نہیں بلکہ آسیہ کے وکیل کی حیثیت سے کردار اداکیاہے ۔اس معاملہ پر پی پی، پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ن)ایک ہیں اور عاشقان رسول کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے گستاخوں کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ سب امریکہ اورمغرب کے غلام ہیں۔ ہم حکومت یا ریاست سے ٹکرانے کے لیے نہیں نکلے ہیں بلکہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔

جماعت اسلامی کراچی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان کا موقف تھا کہ آسیہ کی رہائی کے فیصلے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے امریکہ، برطانیہ، مغرب اور یورپ کو خوش کیا ہے۔ ناموس مصطفی ٰکے تحفظ کی جدوجہد جہاد ہے اور یہ جاری رہے گا ۔ پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا اور اسی بنیاد پر قائم و دائم رہے گا۔ پاکستان ایک نظریے، عقیدے اور لازوال قربانیوں کا نام ہے۔ اگر کوئی اسے اس کے مقصد وجود سے دور کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے ہم لڑیں گے۔

مارچ سے خطاب میں دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ملکی آئین کے اندر توہین رسالت کے قانون کو ہر گز ختم یا بے اثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس معاملے میں کوئی سودے بازی بالکل قبول نہیں کریں گے۔

31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے مبینہ گستاخی رسول کے کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کرلی تھی۔ عدالت نے کمزور شواہد کی بناء پر آسیہ بی بی کو رہائی کے احکامات دئیے تھے جس پر مذہبی جماعتوں بالخصوص تحریک لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ فیصلے کے بعد تین روز تک ملک کے مختلف شہروں بالخصوص بڑے شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رہا تھا جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ دھرنوں اور احتجاج میں املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ تاہم تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان پانے والے معاہدے کی روشنی میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG