رسائی کے لنکس

اگر انٹیلی جنس شیئرنگ ہوگی تو دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا: آئی ایس پی آر


فائل

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے، جمعرات کے روز ہونے والے آپریشن کی مثال دی؛ اور کہا کہ غیر ملکی خاندان کو بازیاب کروانے میں ’’انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اہم تھا‘‘

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان میں انٹیلی جنس شیئرنگ ہونی چاہیے؛ لیکن، بقول اُن کے، ’’پاکستانی سرزمین پر صرف پاک فوج کارروائی کرتی ہے، مشترکہ آپریشن کا کوئی آپشن نہیں ہے‘‘۔

پاکستانی وزیر دفاع نے اپنے دورہٴ امریکہ میں کہا تھا کہ اگر امریکہ کے پاس اطلاعات ہیں تو وہ آئیں اور ان علاقوں کی نشاندہی کریں، دہشت گردوں کے خلاف مل کر اسی وقت کارروائی کی جائے گی۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے، مشترکہ آپریشن کے آپشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر انٹیلی جنس شیئرنگ ہوگی تو دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا‘‘۔

اس حوالے سے، انہوں نے ’’جمعرات کے روز ہونے والے آپریشن کی مثال دی اور کہا کہ کینیڈین خاندان کو بازیاب کروانے میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اہم تھا۔‘‘

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ بحفاظت بازیاب کرائے گئے غیر ملکی افراد کو 2012ء میں طالبان نے افغانستان سے اغوا کیا تھا۔ تاہم، اب طالبان کینیڈا کے اس خاندان کو افغانستان سے پاکستان منتقل کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پرسوں شام 4 بجے ہمارے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ ہوئی، جس پر پاکستانی فورسز نے کامیاب آپریشن کرکے کینیڈین شہری، اس کی امریکی اہلیہ اور تین بچوں کو بحفاظت بازیاب کروایا جس کی امریکیوں نے بھی تعریف کی۔

پاکستان فوج میں قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرتی کے بارے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد محمد صفدر کے حالیہ بیان کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’’فوج میں پابندی نہیں کہ اس میں صرف خاص مسلک کے لوگ آئیں گے۔ پاکستان آرمی میں عیسائی، ہندو اور سکھ بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں‘‘۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ’’پاک فوج ملکی سکیورٹی معاملات کو دیکھتی ہے۔ پاکستان نے اپنے ملک میں جو کرنا تھا کر لیا۔ دوسری جانب، متعدد ممالک دہشتگردی کا سامنا نہیں کر سکے۔ لیکن، ہماری فوج میں تمام صلاحیت موجود ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک نے دہشتگردی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے‘‘۔

ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے، میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک کی معیشت اور سکیورٹی کا گہرا تعلق ہے۔ ملکی حالات ٹھیک نہ ہونے پر معیشت متاثر ہوتی ہے۔ مل بیٹھ کر ملکی معیشت پر بات چیت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ملکی معیشت اگر بری نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں ہے‘‘؛ اور یہ کہ، ’’آرمی چیف نے ملکی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے تجاویز دی ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG