رسائی کے لنکس

logo-print

حساب کتاب بند کر کے آگے کی بات کی جائے، زرداری


پروڈکشن آرڈرز پر رہائی کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری قومی اسمبلی میں بجٹ پر تقریر کر رہے ہیں۔ 20 جون 2019

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ ان کی نظر میں موجودہ حکومت کو جانا چاہئے۔ لیکن، اس حکومت کے جانے کے بعد کون آئے گا یہ بھی سوچنا ہو گا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار آصف علی زرداری جمعرات کو اپنے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شریک ہوئے اور ایوان میں خطاب کرتے ہوئے نسبتاً مفاہمانہ انداز اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں بحث کے دوران حزب اختلاف اور حکومتی اراکین کے درمیان تناؤ اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ایوان کے اندر دونوں اطراف کے بینچز ایک دوسرے کی بجٹ تقریر پر شور شرابا اور نعرے بازی کرتے رہے۔

ہنگامہ آرائی کے اس ماحول میں اسپیکر کو متعدد بار ایوان کی کارروائی معطل اور اجلاس برخاست کرنا پڑا۔

اپوزیشن جماعتیں پیر کے روز سے گزشتہ ہفتے نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے آصف علی زرداری اور دیگر اراکین اسمبلی خواجہ سعد رفیق، علی وزیر اور محسن داوڑ کو اسمبلی میں لانے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے لیے ایوان کے اندر احتجاج کیا اور پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اسپیکر چیمبر کے سامنے دھرنا بھی دیا۔

اپوزیشن کے احتجاج پر اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ رات آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کو اسمبلی میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیے۔ تاہم، وزیرستان سے منتخب علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر تاحال جاری نہیں کیے جا سکے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ حکومت ہر طرح سے ناکام ہو چکی ہے اور ان کی جماعت حکومت مخالف تحریک چلائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی قوتیں باہر نہ نکلیں تو دوسری قوتیں آ جائیں گی اور جب دوسری قوتیں تحریک چلائیں گی تو انہیں اندازہ نہیں ہے کہ کیا نقصان ہو گا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ کپتان کی حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا اپنا نظریہ ہے اور وہ اسی نظریے پر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی جیل بھگت چکے ہیں۔ حکومت ان پر جتنے چاہے مقدمے چلائے لیکن عوام کے لیے مشکلات پیدا نہ کرے۔

اس موقع پر آصف زرداری سے پوچھے گئے کچھ سوالات کے جواب بلاول بھٹو نے دیے اور بتایا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس میں کیا جائے گا، اور ان کے بقول، اے پی سی سے عوام کو اچھی خبریں ملیں گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر کے مطالبے پر قائم ہیں اور اگر گرفتار نمائندوں کی عدم موجودگی میں بجٹ منظور کرایا جائے تو یہ ایک قسم کی دھاندلی ہو گی اور غیر آئینی اقدام تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے اپنے اس موقف کو دوہرایا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اس بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں۔ اس مقصد کے لیے ان کی جماعت اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی اتحادیوں سے رابطے کر رہی ہے۔

حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کی اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے پر وفاقی وزیر غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے پروڈکشن آرڈر جاری کر کے مثبت پیغام دیا ہے۔ تاہم، وہ اور وزیر اعظم عمران خان پروڈکشن آرڈر کے ذریعے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار اراکین کو اسمبلی میں پیش کیے جانے کے خلاف ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس شخص کے خلاف ریفرنس بن رہے ہیں وہ ایوان میں آ کر ’لیکچر‘ دیتا ہے۔ ان کے خیال میں جب تک الزامات سے رکن پارلیمنٹ کو مبرا قرار نہ دیا جائے اس وقت تک اسے ایوان کی کارروائی میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کی حمایت کے بغیر ہی بجٹ منظور کروا لے گی۔ غلام سرور خان نے دعویٰ کیا کہ نہ ’ان ہاؤس‘ تبدیلی آئے گی، نہ چیئرمین سینیٹ تبدیل ہوں گے اور نہ ہی حکومت مخالف تحریک چلے گی۔ ان کے مطابق، حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG