رسائی کے لنکس

logo-print

آصف زرداری اڈیالہ سے پمز اسپتال منتقل


پاکستان کے سابق صدر اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال میں زیر علاج رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیسز میں زیر حراست آصف علی زرداری کو مقدمے کی پیشی کے لئے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

سابق صدر کے وکیل لطیف کھوسہ نے جج محمد بشیر کو بتایا تھا کہ آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق عدالت نے جیل حکام کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر عمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے باوجود زرداری کو ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا، جس پر عدالت نے جیل حکام کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر عمل کرنے کے احکامات دیے۔

خیال رہے کہ پمز ہسپتال کے سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے اڈیالہ جیل میں قید سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری کا جیل میں طبی معائنہ کرنے کے بعد انھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔

آصف علی زرداری کو پمز ہسپتال منتقل کئے جانے کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا اور مختلف طبی ٹیسٹ لئے گئے۔

نیورو سرجری، قلب، میڈیسن کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے ابتدائی معائنے کے بعد آصف زرداری کو عارضی طور پر ہسپتال میں زیر علاج رکھنے کا فیصلہ کیا۔

میڈیکل بورڈ بدھ کو سابق صدر کی طبی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انہیں ہسپتال میں مزید زیر علاج رکھنے یا جیل واپس بجھوانے کا فیصلہ کرے گا۔

پمز اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کے نام ایک مراسلہ بھی لکھا گیا ہے جس میں ہسپتال کے کارڈیک سنٹر کے پرائیویٹ وارڈ کو سب جیل قرار دینے کا کہا گیا ہے جہاں پر آصف زرداری کو زیر علاج رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور آصف زرداری کے فرزند بلاول بھٹو نے گذشتہ دنوں حکومت پر الزام لگایا تھا کہ سابق صدر کو طبی سہولیات فراہم نہ کرکے ان کی جماعت اور قیادت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری کو 10 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں دیا گیا تھا اور بعد ازاں 16 اگست کو عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا۔

پاکستان میں گذشتہ سال تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد احتساب کے عمل کے تحت اعلی سیاسی قیادت زیر حراست ہے جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی دختر مریم نواز، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور قابل ذکر ہیں۔

حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مالی بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار ماضی کے حکمرانوں کو کسی قسم کی ریاعت نہیں دی جائے گی جبکہ حزب اختلاف جماعتوں کی جانب سے احستاب کے اس عمل کو سیاسی انتقام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

گذشتہ روز ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کو خرابی صحت کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا تھا جو کہ چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی حراست میں تھے، جس پر نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے الزام لگایا تھا کہ ان کے والد کی خرابی صحت کی ایک وجہ زہر بھی ہو سکتی ہے

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG