رسائی کے لنکس

عاصم سلیم باجوہ کا استعفی، چین کا دباؤ یا کوئی اور وجہ؟


جنرل عاصم سلیم باجوہ منگل کی شب اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے استعفے کے بعد یہ چہ می گوئیاں جاری ہیں کہ آخر اُنہوں نے اچانک استعفی کیوں دیا؟

سی پیک اتھارٹی سے عاصم سلیم باجوہ نے ایک ایسے وقت میں استعفی دیا ہے ہے جب چین کی جانب سے پاکستان میں اپنے شہریوں کی حفاظت پر تشویش اور سی پیک کے تحت منصوبوں پر پیش رفت سست ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

عاصم سلیم باجوہ کے استعفے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے خالد منصور کو سی پیک امور کے لیے اپنا معاون خصوصی مقرر کردیا ہے۔

سیاسی و دفاعی مبصرین عاصم سلیم باجوہ کے مستعفی ہونے کو ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

عاصم باجوہ نے ایک ٹوئٹ میں اپنے مستعفی ہونے کی تصدیق بھی کی لیکن اس کی وجہ کا تذکرہ نہیں کیا۔

اسی طرح حکومتی رہنماؤں کے بیانات یا جاری ہونے والے نوٹی فکیشن میں بھی اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ عاصم سلیم باجوہ سے استعفیٰ مانگا گیا یا وہ خود مستعفی ہوئے۔

عاصم سلیم باجوہ اس سے قبل پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل اور بلوچستان کی سدرن کمانڈ کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں انہیں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین بنایا گیا۔ اس کے بعد سے ان کی شخصیت تنازعات کا شکار رہی۔

بعدازاں انہیں وزیر اعظم کا معاونِ خصوصی برائے اطلاعات بھی بنایا گیا لیکن ’فیکٹ فوکس‘ نامی ویب سائٹ کی جانب سے ان کے خاندان کی امریکہ میں مبینہ جائیداد اور کاروبار کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہونے والے تنازع کے باعث انہوں نے اکتوبر 2020 میں اس منصب سے استعفی دے دیا تھا۔

وفاقی حکومت نے عاصم سلیم باجوہ کو نومبر 2019 میں سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ عاصم باجوہ کی تقرری چار سال کے لیے کی گئی تھی لیکن وہ دو سال سے کم عرصے میں اس منصب سے مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتِ حال اور چین امریکہ تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں دیکھا جائے تو سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے مستعفی ہونے کی خبر غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کی تبدیلی کے محرکات

سیاسی و دفاعی امور کے تجزیہ نگار پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کی تبدیلی اچانک ہے لیکن اس کے کچھ واضح محرکات دکھائی دیتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے کاروبار کے حوالے سے تحقیقاتی اسٹوری سامنے آنے کے بعد حکومت پر بہت دباؤ تھا۔ تاہم حکومت شاید اس وقت ان کا استعفی نہیں چاہتی تھی تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ انہیں کسی دباؤ کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت منصوبوں میں سست روی پر چین کو شکایات تھیں۔ ممکنہ طور پر اس استعفی کی یہ دوسری وجہ ہوسکتی ہے۔

حسن عسکری کہتے ہیں کہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کی تبدیلی کی ایک وجہ چین کے تحفظات کو دور کرنا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ چین کا مفاد یہ ہے کہ جلد سے جلد یہ منصوبے مکمل ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے اب تک کے فیصلے چین، پاکستان کی فوج اور حکومت کے درمیان مشاورت سے ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کا فیصلہ وزیر اعظم کا ہی ہوگا جو ان کے بقول یک طرفہ نہیں ہوگا بلکہ مشاورت کی بنیاد ہی پر کیا جائے گا۔

سی پیک کے تحت چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
سی پیک کے تحت چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ یہ وزیر اعظم کا اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کر سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے دیکھا ہوگا کہ موجودہ انتظامیہ میں کام نہیں ہورہا یا کام کی رفتار سست ہے تو اس ذمے داری کے لیے وہ نئی شخصیت کو لے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی فرد کی تبدیلی سے ان کے نزدیک فرق نہیں پڑتا البتہ کسی کی کارگردگی کا اندازہ اس کی سنجیدگی اور زمینی نتائج ہی سے لگایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کے نئے سربراہ اگر اس مالی سال میں ایک اکنامک زون کو بھی فعال کردیتے ہیں تو وہ انہیں گزشتہ سربراہ سے بہتر تصور کریں گے۔

عاصم سلیم باجوہ
عاصم سلیم باجوہ

چین کے سفیر کا شکوہ

پروفیسر حسن عسکری نے کہا کہ جنرل عاصم باجوہ انتظامی امور کے تو ماہر تھے مگر ٹیکنو کریٹ نہیں تھے جب کہ خالد منصور اس کا تجربہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کی تبدیلی کو اسی صورت مفید اقدام کہا جاسکے گا جب نئی انتظامیہ سیاسی، تیکنیکی مسائل کے مؤثر حل کے ساتھ ساتھ چین کے تحفظات کو دور کرنے میں بھی کامیاب ہو گی۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ حال ہی میں چین کے پاکستان سے جانے والے سفیر نے ایک انٹرویو میں مایوسی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ چین کے منصوبوں میں ایسے افراد کو ذمے داریاں ملنی چاہئیں جنہیں چین کے کلچر، مارکیٹ، گورننس ، معیشت کے بارے میں علم ہو۔

ان کے بقول اس لیے وزیر اعظم نے سی پیک اتھارٹی کے نئے سربراہ کے لیے اس بات کو پیش نظر رکھا ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ کام کا تجربہ رکھتا ہو۔

سی پیک کے تحت پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
سی پیک کے تحت پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

سی پیک اتھارٹی کے نئے سربراہ کون ہیں؟

خالد منصور کارپوریٹ سیکٹر میں کام کا وسیع تجریہ رکھتے ہیں اور مختلف ملکی و بین الاقومی اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی کے مطابق خالد منصور عالمی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی، ایشیائی ترقیاتی بینک، اورسیز پرائیوٹ انویسٹمنٹ کارپوریشن، اوپیک فنڈ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ اور بعض دیگر عالمی اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔

سی پیک اتھارٹی کے نئے چیئرمین خالد منصور چینی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا بھی تجربہ رکھتے ہیں جن میں چائنہ ڈویلپمنٹ بینک، چائنا ایگزم بینک، انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنہ وغیرہ شامل ہیں۔

خالد منصور پاکستان میں اورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او سی سی آئی) کے صدر رہ چکے ہیں۔ یہ پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی و بین الاقوامی کمپنیوں کا نمائندہ چیمبر ہے۔

معاونِ خصوصی کا عہدہ اور سی پیک آرڈیننس

خالد منصور کو وزیرِ اعظم کا معاونِ خصوصی برائے سی پیک مقرر کیا گیا ہے جب کہ اشفاق حسن کہتے ہیں کہ سی پیک اتھارٹی کے منظور کردہ قانون میں معاونِ خصوصی برائے سی پیک امور کا کوئی منصب موجود نہیں ہے بلکہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کا عہدہ ہے۔

چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور آرڈیننس 2019 کے تحت قائم ہونے والی یہ اتھارٹی پاکستان اور چین کے درمیان قائم مشترکہ ورکنگ گروپس اور دیگر اداروں کے اجلاس بلانے کے لیے رابطہ کار کا کام کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG