رسائی کے لنکس

logo-print

جولین اسانج کا سفارت خانہ چھوڑنے سے انکار


اسانج گزشتہ ایک برس سے لندن میں قائم ایکواڈور کے سفارت خانے کی عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں پناہ گزین ہیں۔

'وکی لیکس' کے بانی جولین اسانج نے کہا ہے کہ اگر سوئیڈن نے ان پر عائد الزامات واپس بھی لے لیے تو بھی وہ لندن میں قائم ایکواڈور کا سفارت خانہ نہیں چھوڑیں گے۔

برطانوی پولیس کے ہاتھوں اپنی حراست سے بچنے کے لیے ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ حاصل کرنے کی پہلی سال گرہ کے موقع پر اپنے ایک انٹرویو میں اسانج نے کہا کہ سوئیڈن کی جانب سے ان پر عائد جنسی زیادتی کے الزامات واپس لینے کی صورت میں بھی انہیں شبہ ہے کہ انہیں سفارت خانے سے باہر آنے پر امریکہ کے حکم پر گرفتار کرلیا جائے گا۔

گزشتہ ایک برس سے ایکواڈورین سفارت خانے کی تنگ عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں پناہ گزین اسانج کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ ایک نہ ایک روز ضرور سفارت خانے سے باہر آنے میں کامیاب ہوں گے لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسا جلد ہونے کا امکان نہیں۔

اپنے انٹرویو میں اسانج نے کہا کہ انہیں ان کے وکلا نے سفارت خانہ چھوڑنے سے منع کر رکھا ہے کیوں کہ خدشہ ہے کہ برطانوی پولیس انہیں گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کردے گی۔

اپنے انٹرویو میں 41 سالہ اسانج نے امریکہ، برطانیہ اور اپنے آبائی وطن آسٹریلیا کی حکومتوں پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔

خیال رہے کہ امریکی خفیہ سرکاری دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری کرنے والی ویب سائٹ 'وکی لیکس' کے بانی جولین اسانج نے گزشتہ سال جون میں اس وقت ایکواڈور کے لندن میں قائم سفارت خانے میں پناہ حاصل کرلی تھی جب برطانوی حکومت نے انہیں گرفتار کرکے سوئیڈن کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

سوئیڈن میں اسانج پر دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے اور سوئیڈش حکومت ان الزامات کی تفتیش کے لیے اسانج تک رسائی حاصل کرنے کی کافی عرصے سے کوشش کر رہی ہے۔

جولین اسانج خود پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ان الزامات کا مقصد انہیں ان کی سرگرمیوں کے باعث سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔

اپنے انٹرویو میں جولین اسانج نے کہا کہ وہ خود پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لیے سوئیڈش حکام کے سامنے بذاتِ خود پیش نہیں ہونا چاہتے کیوں کہ انہیں یقین ہے کہ سوئیڈن انہیں امریکہ کے حوالے کردے گا۔

ایکواڈور کی حکومت اسانج کو سیاسی پناہ دینے کا اعلان کرچکی ہے لیکن برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسانج کو ایکواڈور کے سفارت خانے سے باہر آنے پر گرفتار کرلیا جائے گا۔

گزشتہ ایک برس سے ایکواڈور کے سفارت خانے کے باہر لندن پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سفارت خانے کی عمارت کی سخت نگرانی کی جارہی ہے۔
XS
SM
MD
LG