رسائی کے لنکس

logo-print

اسانج کی حوالگی پر برطانیہ اور ایکوڈور میں اختلاف برقرار


امریکی خفیہ دستاویزات اِفشا کرنے والی ویب سائٹ 'وکی لیکس' کے بانی جولین اسانج کےمستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے برطانیہ اور ایکواڈور کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات بے نتیجہ رہی ہے۔

امریکی خفیہ دستاویزات اِفشا کرنے والی ویب سائٹ 'وکی لیکس' کے بانی جولین اسانج کےمستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے برطانیہ اور ایکواڈور کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات بے نتیجہ رہی ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ اور ان کے ایکواڈورین ہم منصب ریکارڈو پٹینو کے درمیان ملاقات جمعرات کو نیویارک میں ہوئی جہاں ان دنوں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سربراہی اجلاس جاری ہے۔

ملاقات کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے اور اس سلسلے میں دوبارہ ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔

یاد رہے کہ جولین اسانج اپنی سوئیڈن بدری سے بچنے کے لیے 19 جون سے لندن میں قائم ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ گزین ہیں۔

ایکواڈور کی حکومت نے اسانج کو سیاسی پناہ دینے کی ان کی درخواست قبول کرلی ہے لیکن برطانوی پولیس سفارت خانے کی نگرانی کر رہی ہے اور اس نے واضح کر رکھا ہے کہ اسانج کو سفارت خانے سے باہر آنے پر حراست میں لے لیا جائے گا۔

اسانج پر سوئیڈن میں دو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے جس کی تحقیقات کے لیے سوئیڈش حکومت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

تاہم وکی لیکس کے بانی اور ان حامیوں کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں سوئیڈن بدر کیا گیا تو سوئیڈش حکومت انہیں امریکہ کے حوالے کردے گی جہاں انہیں خفیہ امریکی سفارتی اور فوجی دستاویزات افشا کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG