رسائی کے لنکس

خلا میں بسکٹ بیک کرنے کا کامیاب تجربہ


زمین کے مدار میں چکر لگاتا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (فائل فوٹو)

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود خلابازوں نے پہلی بار اوون میں بسکٹ بنانے کا تجربہ کیا ہے۔

بسکٹ بیک کرنے کے عمل میں شیف کی ذمہ داری بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے اطالوی کمانڈر لوکا پرمیٹانو نے نبھائی۔ اس کام میں انہیں امریکی خلا باز کرسٹینا کوک کی معاونت بھی حاصل تھی۔

دونوں خلا بازوں نے خاص طور پر خلا کے لیے تیار کیے گئے اوون میں چاکلیٹ چپ بسکٹ تیار کیے۔ البتہ خلا میں بسکٹس کی بیکنگ میں زمین سے کہیں زیادہ وقت لگا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق عام طور پر زمین پر اوون میں بسکٹ بنانے میں 15 سے 20 منٹ لگتے ہیں جب کہ خلا میں اس کی تیاری میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔

خلا بازوں کے مطابق انہوں نے پہلا بسکٹ 25 منٹ اور دوسرا 75 منٹ تک اوون میں رکھا لیکن دونوں بسکٹ کچے رہے۔ اس پر خلاباز بتدریج بیکنگ کا وقت بڑھاتے گئے اور 120 اور 130 منٹ تک پکنے کے بعد بظاہر خستہ بسکٹ مل سکے۔

البتہ کسی بھی خلا باز کو یہ بسکٹ چکھنے کی اجازت نہیں تھی اور اسی لیے انہوں نے صرف خوشبو اور رنگت سے بسکٹس کے مکمل پکے ہوئے ہونے کی تسلی کی۔

پکائے گئے تینوں بکسٹس کو بعد ازاں 'اسپیس ایکس' کے خلائی جہاز ڈریگن کے ذریعے زمین پر بھیج دیا گیا جہاں خوراک پر تحقیق کرنے والے سائنس دان اس کا تعین کریں گے کہ آیا یہ بسکٹس کھائے جاسکتے ہیں یا نہیں۔

خلائی اسٹیشن کے لیے خاص طور پر اوون تیار کرنے والی کمپنی نے بیکنگ کے کامیاب تجربے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خلا بازوں کے تاثرات کی بنیاد پر اپنی ٹیکنالوجی مزید بہتر بنائے گی اور یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ زمین اور خلا میں بیکنگ کے وقت میں اتنا فرق کیوں ہے۔

بسکٹس تیار کرنے کے تجربے کا مقصد خلا میں بھی اسی طرح کھانا تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا جس طرح زمین پر پکایا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بسکٹس کی کامیاب بیکنگ نے اس امکان کو روشن کردیا ہے کہ مستقبل میں خلا باز خلا میں بھی اپنی پسند کا کھانا پکا اور کھا سکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG