رسائی کے لنکس

logo-print

انسان نما روسی خلائی روبوٹ ’فیڈر‘ خلائی اسٹیشن پہنچ گیا


روسی روبوٹ خلا باز ’فیڈر‘ ۔ فائل فوٹو

روس کا ایک خلائی جہاز 'آئی ایس ایس سویوز' انسانی خصوصیات کے حامل روبوٹ کو لے کر زمین کے مدار میں موجود بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کامیابی سے اُتر گیا ہے۔

یہ روس کا پہلا خلائی جہاز ہے جس میں کسی انسانی خلاباز یا کوزمونوٹ کی بجائے انسانی خصوصیات کا حامل روبوٹ موجود ہے۔

انسانی جسامت کے اس روبوٹ کا نام فیڈر(Fedor) ہے جو حتمی تجرباتی مظاہرے کے آبجیکٹ ریسرچ کے ابتدائی انگریزی حروف کا مرکب ہے۔

یہ روبوٹ انسانی حرکات کی نقل کرتا ہے جس کی وجہ سے اسے خلائی اسٹیشن پر مختلف کام انجام دینے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس روبوٹ میں زمین سے ریموٹ کے ذریعے دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

سویوز کی خلائی اسٹیشن پر ڈاک کرنے کی کوشش ہفتے کے روز ترک کر دی گئی تھی جس کی وجہ خلائی اسٹیشن کے ڈاکنگ نظام میں خرابی بتائی جاتی ہے۔

تاہم ’فیڈر‘ خلائی تحقیق کی تاریخ کا پہلا روبوٹ نہیں ہے جسے خلا میں بھیجا گیا ہے۔ اس سے پہلے 2011 میں امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے بھی انسانی شکل اور خصوصیات رکھنے والا ایک روبوٹ ’روبونوٹ۔ 2 ‘ کو خلا میں بھیجا تھا۔

اسے جنرل موٹرز کمپنی کی مدد سے تیار کیا گیا تھا اور وہ زیادہ خطرے کے ماحول میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

اس کے بعد جاپان نے 2013 میں اپنے اولین اسپیس کمانڈر کے ہمراہ ’کیروبو‘ نامی روبوٹ خلائی اسٹیشن کی طرف روانہ کیا تھا۔ اسے جاپان کی مشہور آٹو کمپنی 'ٹویوٹا' نے تیار کیا تھا۔ کیروبو جاپانی زبان میں گفتگو کرنے کی اہلیت بھی رکھتا تھا۔

روسی روبوٹ ’فیڈر‘ ایس ایس سویوز میں 21 اگست کو بیکونور کازموڈروم سے روانہ ہوا تھا اور یہ 7 ستمبر تک خلائی اسٹیشن میں موجود رہے گا، جہاں وہ خلائی تحقیق سے متعلق مختلف امور انجام دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG