رسائی کے لنکس

کیلیفورنیا: جنگل کی آگ سے 10 افراد ہلاک، ہزاروں بے گھر


آگ کا دھواں سان فرانسسکو تک محسوس کیا جارہا ہے جس سے نزدیک ترین آگ بھی 96 کلومیٹر دور ہے۔

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ سے کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ لگ بھگ 20 ہزار افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔

کیلیفورنیا کی فائر سروس کے مطابق آگ ریاست کے شمالی جنگلات میں اتوار کی شب مختلف مقامات پر بھڑکی تھی جو اب تک 73 ہزار ایکڑ اراضی کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر نے ریاست کی تین کاؤنٹیز - ناپا، سونوما اور یوبا - میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے جہاں آگ سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

یہ تینوں کاؤنٹیز خلیجِ سان فرانسسکو کے شمال میں واقع ہیں اور امریکہ بھر میں شراب کی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔

حکام کے مطابق آگ کے باعث اب تک 1500 سے زائد عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں جب کہ کئی مقامات پر گیس کی لائنیں اور پیٹرول کے ٹینک پھٹنے سے دھماکے بھی ہوئے ہیں۔

کیلیفورنیا کی ریاستی حکومت کے مطابق اس وقت ریاست کے شمالی جنگلات میں لگ بھگ 200 میل کے رقبے پر کم از کم 14 مقامات پر بڑی آگ لگی ہوئی ہے۔

علاقے میں 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں کے باعث حکام کو آگ بجھانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

آگ کا دھواں سان فرانسسکو تک محسوس کیا جارہا ہے جس سے نزدیک ترین آگ بھی 96 کلومیٹر دور ہے۔

متاثرہ علاقے میں واقع سب سے بڑے شہر سانتا روزا کے بھی آگ سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آگ شہر کے نواح تک پہنچ گئی ہے اور شہر کے کئی نواحی علاقوں سے رہائشیوں کو نکلنا پڑا ہے۔

سانتا روازا کی آبادی لگ بھگ پونے دو لاکھ ہے۔ دھویں اور گھٹن کے باعث شہر کے دو اسپتالوں کو بھی خالی کرالیا گیا ہے اور مریضوں کو دیگر طبی مراکز منتقل کردیا گیا ہے۔

متاثرہ علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے سرکاری اسکولوں اور گرجا گھروں میں عارضی رہائشی کیمپ قائم کردیے گئے ہیں۔

امریکہ کی مغربی ریاستوں میں موسمِ گرما کے سخت اور خشک مہینوں کے دوران جنگلات میں آگ بھڑکنے کے واقعات معمول ہیں جو عموماً تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل جاتی ہے۔

گزشتہ ماہ بھی لاس اینجلس کے نزدیک بھڑکنے والی آگ کے باعث سیکڑوں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔ اس آگ کو لاس اینجلس کی تاریخ کی سب سے شدید آگ قرار دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG