رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: جنگلات میں آگ لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم


انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں فائر فائٹر جنگل میں لگی آگ بچھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 4 اگست 2017

انڈونیشیا  کے جنگلات میں آتش زدگی کے واقعات عام ہیں  جن کے نتیجے میں ہمسایہ ملکوں، مثلاً ملائیشیا اور سنگاپور میں آسمان دھوئیں کے گہرے بادلوں سے ڈھک جاتا ہے۔

انڈونیشیا کے صوبے جامبی میں ایک فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ اس نے حکم دیا ہے کہ جس نے بھی جنگل میں جان بوجھ کر آگ لگائی ہے ،اسے گولی مار دی جائے۔

حکام صوبے کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر لگی ہوئی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ہفتے کے روز بلند ہوتے ہوئے دھوئیں کے بادلوں نے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

انڈونیشیا کے پانچ صوبوں نے جنگلات میں لگی آگ کے باعث ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا ہے۔

ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی وزارت نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران آگ مزید کئی علاقوں میں پھیل گئی ہے۔

حکام صورت حال پر قابو پانے کے لیے کئی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں جن میں فوج بھی شامل ہے۔

انڈونیشیا کے میڈیا نے کہا ہے کہ پڑوسی صوبے سماٹراکے جنوبی حصے میں واقع ایک جزیرے بھی ایمرجینسی کا اعلان کیا گیا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 30 جولائی کو جنگلا ت میں 173 مقامات پر آگ بھڑک رہی تھی جن کی تعداد اب بڑھ کر 239 ہو گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر جزیرہ بورنیومیں واقع ہیں جب کہ آتش زدگی کی زد میں آنے والے دیگر مقامات سماٹرا اور جاوا کے جزائر میں ہیں۔

اس سے قبل ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ خشک موسم کی وجہ سے جنگلات کی آگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انڈونیشیا کے جنگلات میں آتش زدگی کے واقعات عام ہیں جن کے نتیجے میں ہمسایہ ملکوں، مثلاً ملائیشیا اور سنگاپور میں آسمان دھوئیں کے گہرے بادلوں سے ڈھک جاتا ہے۔

انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ کا بدترین واقعہ سن 2015 میں پیش آیا تھا جس کا نشانہ سماٹرا اور کالیمانتان کے علاقے تھے۔

عالمی بینک نے حکومت کے حوالے سے کہا تھا کہ 2015 میں جون سے اکتوبر کے دوران 64لاکھ ایکٹر رقبے پر جنگلات اور فصلیں آتش زدگی کی نذر ہو گئی تھیں جس سے معیشت کو 16 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG