رسائی کے لنکس

سوات: جج اور اہلِ خانہ کا قتل، خاندانی دشمنی یا دہشت گردی؟ تحقیقات جاری


پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج آفتاب آفریدی اور ان کے تین قریبی رشتہ داروں کے قتل کے الزام میں پولیس نے پانچ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔

اتوار کی شام پشاور موٹروے پر صوابی انٹرچینج کے قریب نامعلوم افراد نے جج آفتاب آفریدی کی گاڑی پر فائرنگ کر دی تھی۔

فائرنگ کے نتیجے میں جسٹس آفتاب آفریدی، ان کی اہلیہ، بہو اور ایک پوتا ہلاک جب کہ ڈرائیور اور محافظ زخمی ہوئے تھے جنہیں صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس اور دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے تھے جب وزیرِ اعظم عمران خان، وزیرِ اعلٰی اور گورنر خیبرپختونخوا نے بھی ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے۔

واقعہ کا مقدمہ مقتول جج کے بیٹے کی مدعیت میں ضلع صوابی کے ایک تھانے میں درج کر لیا گیا ہے جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی، اُن کے بیٹے دانش آفریدی سمیت 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

صدر سپریم کورٹ آف پاکستان لطیف آفریدی کے صاحبزادے دانش آفریدی بھی جج رہ چکے ہیں، تاہم اب وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

البتہ، لطیف آفریدی نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے ایک گاؤں میں چھاپے مار کر مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں مزید تفتیش کے لیے صوابی منتقل کر دیا ہے۔

دہشت گردی یا ذاتی دُشمنی؟

لطیف آفریدی کے قریبی حلقے میں شامل ایک فرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی، مقتول جج آفتاب آفریدی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی آپس میں رشتے دار ہیں۔

خیال رہے کہ نامعلوم افراد نے سمیع آفریدی کو مارچ 2015 میں پشاور میں قتل کر دیا تھا جس کی ذمے داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی تھی۔

اُن کے بقول لطیف آفریدی کے چچا زاد بھائی وزیر آفریدی کو بھی نامعلوم افراد نے 27 ستمبر 2019 کو پشاور میں قتل کر دیا تھا جس کے الزام میں گرفتار ہونے والے اُجرتی قاتل نے کہا تھا کہ سمیع اللہ آفریدی کے بیٹے نے اسے رقم دی تھی۔

لطیف آفریدی کے قریبی حلقے میں شامل فرد نے مزید بتایا کہ دونوں خاندانوں کے مابین کوئی براہ راست بڑی دشمنی تو نہیں تھی مگر ماضی میں تشدد کے مختلف واقعات میں یہ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے رہے ہیں۔

پولیس کیا کہتی ہے؟

صوابی کے ضلعی پولیس افسر محمد شعیب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابھی تک پانچ مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں شناخت پریڈ کے لیے مقتول جج کے بیٹے کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

محمد شعیب کے مطابق اس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مقتول جج آفتاب آفریدی فروری کے وسط سے سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں بطور جج تعینات تھے۔

خیبرپختونخوا کا ضلع سوات 2005 سے 2009 کے دوران تحریکِ طالبان پاکستان کے زیرِ اثر رہا ہے۔ تاہم 2009 میں یہاں فوجی آپریشن کیا گیا جس کے بعد ٹی ٹی پی کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا جب کہ کئی عسکریت پسند اس علاقے سے فرار ہو گئے تھے۔

گرفتار ہونے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کچھ مقدمات سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔

البتہ، سوات سے تعلق رکھنے والے سینئر وکیل آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج آفتاب آفریدی کے عدالت میں دہشت گردی کا کوئی بڑا مقدمہ زیرِ سماعت نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG