رسائی کے لنکس

logo-print

جاپان: اسٹوڈیو پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی


آتش زدگی سے متاثرہ اینی میشن اسٹوڈیو کی عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

جاپان میں فلمیں اور ٹی وی شوز بنانے والے اینی میشن اسٹوڈیو پر آتش گیر مادے کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔

جمعرات کے روز ہونے والے حملے کے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے یہ حملہ منصوبہ بندی کے بعد کیا۔

اسٹوڈیو میں ہونے والے اس حملے کو دو دہائیوں کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 2001 میں ٹوکیو میں آتش گیر مادے کے حملے سے 44 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

واقعے کے بعد جاپان کا ماحول سوگوار ہے۔ لوگ ہلاک ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے متاثرہ مقام پر آ رہے ہیں اور مرنے والوں کی یاد میں پھول رکھ رہے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان جاپان کے ساتھ ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق، کیوٹو شہر کے اینی میشن اسٹوڈیو میں ایک شخص نے آتش گیر مادے سے حملہ کیا جس سے عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔

آگ بجھانے کا عمل کئی گھںٹے جاری رہا جس کے بعد ریسکیو اہلکار عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور زخمیوں کو نکالا جبکہ لاشیں اسپتال منتقل کیں۔

ریسکیو ذرائع نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ بیشتر لاشیں عمارت کی دوسری منزل اور چھت پر جانے والی سیڑھیوں سے برآمد ہوئیں۔

حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 10 کی حالت نازک ہے۔ مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ عمارت میں آگ لگنے کے وقت 70 افراد موجود تھے۔

کیوٹو کی پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ایک شخص نے اسٹوڈیو کی عمارت میں داخل ہو کر آتش گیر مادہ پھینکا جس سے آگ لگ گئی۔ ترجمان نے کہا کہ پولیس آگ لگنے کے واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

جاپان کے مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور بھی آگ کی زد میں آ کر زخمی ہوا ہے جو اب اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

واقعے کے ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ اس نے دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں اور عمارت میں آگ بھڑکتے ہوئے دیکھی۔

واضح رہے کہ اسٹوڈیو اینی میشن پر مبنی ٹی وی شوز بناتا تھا۔ اسٹوڈیو کی انتظامیہ نے آگ لگنے کے واقعے پر اب تک کوئی مؤقف نہیں دیا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسٹوڈیو کی مالک کمپنی کے ہیڈ آفس کا کہنا تھا کہ وہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسٹوڈیو میں کیا ہوا۔

واضح رہے کہ جاپان میں جرائم کی شرح کافی کم ہے اور اسے ایک پُرامن ملک سمجھا جاتا ہے۔

جاپان میں بیشتر عمارتیں لکڑی سے بنائی جاتی ہیں اور اسی لیے جاپان میں جان بوجھ کر آگ لگانا سنگین جُرم سمجھا جاتا ہے۔ جان بوجھ کر آگ لگانے کی سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔

سال 2008 میں بھی جاپان میں آگ لگانے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے مجرم کو بعد ازاں ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG