رسائی کے لنکس

logo-print

کابل حملے میں 32 افراد ہلاک، اقوام متحدہ کی مذمت


سیکیورٹی فورسز کابل میں حملے کے مقام پر کارروائی کر رہی ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن یواین اے ایم اے نے کابل میں عام شہریوں پر مہلک حملے کی مذمت کی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں 32 افراد ہلاک اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق جمعے کو کابل میں ہزارہ قبیلے کے رہنما عبد العلی مزاری کی برسی کی تقریب جاری تھی جس میں ملک کے چیف ایکزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور دیگر سیاسی رہنما بھی شریک تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ فائرنگ اس وقت شروع ہوئی جب سابق نائب صدر کریم خلیلی تقریر کر رہے تھے۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق تقریب کے قریب زیرِ تعمیر عمارت سے متعدد افراد نے فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا۔ حملہ آوروں اور فورسز کے درمیان چار گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تین حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اسلامی دہشت گرد گروپ خراسان صوبہ آئی ایس کے پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

صدر اشرف غنی نے حملے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

ترجمان کے مطابق فائرنگ کے بعد چیف ایگزیکٹو اور سابق صدر کو بحفاظت پنڈال سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ عبداللہ عبداللہ افغانستان کے سابق وزیرِ خارجہ رہ چکے ہیں اور وہ 2014 سے ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔

کابل میں ہزارہ قبیلے کے رہنما عبدالعلی کی برسی کی مناسبت سے تقریب جاری تھی جس کے دوران فائرنگ ہوئی۔ (اے ایف پی)
کابل میں ہزارہ قبیلے کے رہنما عبدالعلی کی برسی کی مناسبت سے تقریب جاری تھی جس کے دوران فائرنگ ہوئی۔ (اے ایف پی)

افغان وزارتِ داخلہ اور وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں 27 افراد ہلاک اور 55 زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے فارسی زبان میں کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کابل کی تقریب پر ہونے والا حملہ انسانیت اور افغانستان کے قومی اتحاد کے خلاف ہے۔

اُن کے بقول، انہوں نے عبداللہ عبداللہ اور پروفیسر خلیلی کو فون کر کے ان کی طبیعت دریافت کی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو ہونے والے امن معاہدے کے بعد یہ بڑا حملہ ہے۔ امن معاہدے کے بعد طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔

تاہم جمعے کو ہونے والی دہشت گردی کی اس کارروائی پر طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حملے میں ملوث نہیں ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز قبل کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت وہ غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے البتہ افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف اُن کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

افغانستان میں موجود امریکی فورسز نے بھی چار مارچ کو صوبہ ہلمند میں فضائی کارروائی کے دوران طالبان کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے اس کارروائی کو دفاع میں کیا گیا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد طالبان کو افغان فورسز پر حملے سے روکنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG