رسائی کے لنکس

اٹارنی جنرل کی فائز عیسٰی کیس میں حکومت کی نمائندگی سے معذرت


اٹارنی جنرل خالد جاوید خان (فائل فوٹو)
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں حکومت کی نمائندگی سے معذرت کر لی ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس کیس میں مفادات کا ٹکراؤ ہے، حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مقدمے میں وکیل نامزد کرنے کی درخواست دے دی۔

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ محنتی شخص ہیں۔ آپ جب پہلے بھی اٹارنی جنرل تھے تو آپ سے معاونت ملتی تھی، اس کیس پر بھی اپنا ذہن استعمال کریں۔

اس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کیس میں حکومت کی نمائندگی سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔ اس ریفرنس پر پہلے ذاتی طور پر اعتراضات اٹھا چکا ہوں۔ جس کے بعد میرا کیس میں پیش ہونا مناسب نہیں۔

وفاقی حکومت کو اس کیس میں وکیل کرنے کے لیے وقت چاہیے ہو گا، عدالت سے استدعا ہے کہ آئندہ سماعت 20 مارچ کے بعد رکھی جائے۔

عدالت نے کیس ملتوی کرنے کی وفاق کی استدعا منظور کر لی اور کہا کہ آئندہ سماعت تک وفاق کا نیا وکیل تیاری کے ساتھ پیش ہو۔ وفاق کا وکیل نہ آیا یا وقت مانگا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل دلائل دیں گے۔

اس موقع پر فروغ نسیم نے ذاتی طور پر اور وفاق کی جانب سے وکالت کی اجازت کی استدعا کی جس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ کیا آپ وزارت سے مستعفی ہو رہے ہیں؟ جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ وزارت سے استعفی نہیں دے رہا۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ مستعفی ہوئے بغیر آپ وفاق کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ مجھے ذاتی حیثیت میں فریق بنایا گیا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ ذاتی حیثیت میں اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے کہا کہ فروغ نسیم اور انور منصور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ جسٹس پر عمر عطاء نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے بارے میں آپ کا بیان ہم نے دیکھا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

عمر عطاء بندیال نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کو کوئی خطرہ نہیں، قرآن، قانون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قرآن کسی کی جاسوسی نہ کرنے کا درس دیتا ہے۔ اس ملک میں آئین ہے، ہزاروں کالے کوٹ والے ہیں۔

عابد ساقی نے کہا کہ ہماری توہین عدالت کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب کیا جائے۔ فریقین عدالت اور قوم کو مطمئن کریں۔ جج محفوظ نہیں ہوگا تو کون ہو گا۔ 40 سال سے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی معذرت

جسٹس عمر عطاء بندیال نے گزشتہ سماعت پر اونچا بولنے پر معذرت کر لی، انہوں نے کہا کہ میڈیا سے علم ہوا کہ میں نے بلند آواز میں بات کی۔ وکلاء سمیت تمام افراد سے معذرت خواہ ہوں،جو ہوا اسے بھول جائیں اور آگے بڑھیں۔ کوشش کریں کہ دلائل کے دوران کسی فریق کی تضحیک نہ ہو۔ قرآن پاک بھی غصے پر قابو پانے کا حکم دیتا ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے عدالت سے استدعا کی کہ عالمی سطح پر ایک کیس میں مجھے اور اٹارنی جنرل کو پیش ہونا ہے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی۔

بعدازاں فروغ نسیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت ملتوی ہوئی ہے۔ عدالت کو بتایا ہے کہ عدالتی معاونت کے لیے تیار ہیں، اس کیس میں مجھے ذاتی حیثیت میں فریق بنایا گیا ہے۔ اس لیے ذاتی حیثیت میں دلائل دینا چاہتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)

فروغ نسیم نے کہا کہ "میں نے عدالت کو یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے نمائندگی کرنے کی اجازت دیں۔ عدالت نے مجھے وفاق کی نمائندگی سے روک دیا ہے۔ عدالت کو کہا کہ اپنے خلاف درخواست پر دلائل دوں گا۔ بار کونسل کی توہین عدالت کی درخواست پر آج سماعت نہیں ہوئی۔ جب بار کی درخواست پر سماعت ہوگی تب دیکھا جائے گا۔"

فروغ نسیم نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کی تعیناتی پر ان کے اعتراض سے متعلق خبروں پر کہا کہ مجھے خالد جاوید کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ خالد جاوید سے بھائیوں والا تعلق ہے۔

اٹارنی جنرل خالدجاوید نے کہا کہ فروغ نسیم کے والد میرے بڑے مہربان تھے۔ میں کنسلٹنٹ تھا مجھ پر اعتراض ہوتا تھا تو فروغ نسیم کے والد میرا دفاع کرتے تھے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس کے خلاف ان کی دائر کردہ درخواست کی سماعت جاری ہے۔ اس کیس میں سابق اٹارنی جنرل انور منصور کے عدالت میں دیے گئے ایک بیان کی وجہ سے انہیں اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

XS
SM
MD
LG