رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا میں آب و ہوا کی تبدیلی پر اقدامات کے لیے مظاہرہ


ہنگری میں آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق مظاہرہ۔ 29 نومبر 2019

جمعے کے روز سڈنی، آسٹریلیا میں سینکڑوں مظاہرین نے آب و ہوا کی تبدیلی پر کنٹرول سے متعلق مزید اقدامات پر زور دینے کے لیے سڑکوں پر مارچ کیا۔ یہ مظاہرہ آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متعلق عالمی کوششوں کا حصہ تھا۔

مظاہرین نیو ساؤتھ ویلز لبرل پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر یہ مطالبہ کرتے ہوئے اکٹھے ہوئے کہ حکومت کوئلے، تیل یا گیس کے کسی بھی نئے پراجیکٹ کو مسترد کرے۔

مظاہرے میں شامل ایک خاتون، ربیکا گلسن کا کہنا تھا کہ اب ٹھوس اقدامات کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ہمارے عہدے داروں اور ہمارے سیاست دانوں کو یہ دکھایا جائے کہ ہمارے پاس سسٹم کو بند کرنے کی طاقت ہے۔ ہم یہ فیصلے کرنے کی طاقت رکھتے ہیں کہ کیا کچھ بنایا جائے۔ بجلی کس طرح پیدا کی جائے اور ہم کس قسم کی سوسائٹی میں رہنا چاہتے ہیں۔

آسٹریلیا کے سرگرم کارکن نے یہ مظاہرہ ایشیا پیسفک کے کئی شہروں میں ہونے والے ان مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے کے لیے کیا جو آب و ہوا کی تبدیلی پر کسی اقدام کے مطالبے سے متعلق سویڈن کی سولہ سالہ گریٹا تھن برگ کی مہم کی حمایت کر رہے ہیں۔

اب جب کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے، جمعے کے روز تجزیہ کاروں نے انتباہ کیا کہ اسپین کے شہر میڈرڈ میں عنقریب ہونے والی اقوام متحدہ کی آب و ہوا سے متعلق کانفرنس ہو سکتا ہے کہ ان کی توقعات پر پوری نہ اترے۔

امریکی نوجوانوں کے گروپس نے آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے کے لیے، صارفین کی رعائتی خریداری کے موقع کے بائیکاٹ اور معمول کے کاروباری انداز میں تبدیلی کے مطالبے کے لیے لاس اینجلس سے نیو یارک تک بلیک فرائڈے اسٹرائک کی منصوبہ بندی کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG