رسائی کے لنکس

ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف کئی ملکوں میں مظاہرے، سیکڑوں افراد گرفتار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف دنیا بھر کے کئی شہروں میں مظاہرے کیے گئے ہیں جن میں شریک سیکڑوں مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پیر کو برطانیہ، امریکہ، فرانس اور جرمنی سمیت دیگر ملکوں میں بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ اس موقع پر مظاہرین نے کئی مقامات پر سڑکیں بلاک کر کے ٹریفک کی آمد و رفت بھی معطل کی۔

اسی طرز کے مظاہرے آسٹریا، آسٹریلیا، فرانس، اسپین اور نیوزی لینڈ میں بھی کیے گئے۔

دنیا کے کئی شہروں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مظاہرے

<p>مختلف ملکوں میں یہ مظاہرے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم &rsquo;ایکسٹنکشن ریبیلین&lsquo; کے تحت کیے گئے۔ یہ تنظیم ماضی میں بھی ماحولیات سے متعلق مسائل پر توجہ دلانے کے لیے کئی مظاہرے کر چکی ہے</p>
1/11

مختلف ملکوں میں یہ مظاہرے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم ’ایکسٹنکشن ریبیلین‘ کے تحت کیے گئے۔ یہ تنظیم ماضی میں بھی ماحولیات سے متعلق مسائل پر توجہ دلانے کے لیے کئی مظاہرے کر چکی ہے

مزید Show less
<p>پیر کو لندن کے ٹرافلگر اسکوائر پر مظاہرین جمع ہوئے اور مرکزی سڑکیں اور پل بلاک کردیے۔ مظاہرین نے احتجاجی بینرز اٹھا کر بکنگھم پیلیس کی طرف بھی مارچ کیا</p>
2/11

پیر کو لندن کے ٹرافلگر اسکوائر پر مظاہرین جمع ہوئے اور مرکزی سڑکیں اور پل بلاک کردیے۔ مظاہرین نے احتجاجی بینرز اٹھا کر بکنگھم پیلیس کی طرف بھی مارچ کیا

مزید Show less
<p>لندن پولیس نے مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود سیکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا</p>
3/11

لندن پولیس نے مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود سیکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا

مزید Show less
<p>لندن پولیس نے سڑکیں اور راستے بند کرنے کے الزام میں 276 مظاہرین کو گرفتار کر لیا<br />
&nbsp;</p>
4/11

لندن پولیس نے سڑکیں اور راستے بند کرنے کے الزام میں 276 مظاہرین کو گرفتار کر لیا
 

مزید Show less
لندن کے ٹرافلگر اسکوائر پر ہونے والے مظاہرے میں شریک ایک نوجوان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی کا بینر اٹھائے ہوئے ہے
5/11 لندن کے ٹرافلگر اسکوائر پر ہونے والے مظاہرے میں شریک ایک نوجوان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی کا بینر اٹھائے ہوئے ہے
مزید Show less
<p>فرانس کے شہر پیرس میں بھی &rsquo;ایکسٹنکشن ریبیلین&lsquo; کے مظاہرین نے سڑکوں کو بند کیا اور ماحولیات سے متعلق آگاہی کے لیے ورک شاپس منعقد کیں</p>
6/11

فرانس کے شہر پیرس میں بھی ’ایکسٹنکشن ریبیلین‘ کے مظاہرین نے سڑکوں کو بند کیا اور ماحولیات سے متعلق آگاہی کے لیے ورک شاپس منعقد کیں

مزید Show less
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ گرین ہاؤس اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو منفی سمت میں جانے سے روکا جا سکے۔
7/11 مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ گرین ہاؤس اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو منفی سمت میں جانے سے روکا جا سکے۔
مزید Show less
<p>امریکہ کے شہر نیو یارک میں مظاہرین نے بیل کے مجسمے اور اپنے کپڑوں کو جعلی خون سے رنگ دیا اور پھر سڑکوں پر لیٹ کر انوکھا مظاہرہ کیا</p>
8/11

امریکہ کے شہر نیو یارک میں مظاہرین نے بیل کے مجسمے اور اپنے کپڑوں کو جعلی خون سے رنگ دیا اور پھر سڑکوں پر لیٹ کر انوکھا مظاہرہ کیا

مزید Show less
&nbsp;مظاہرین نے کئی مقامات پر سڑکیں بلاک کر کے ٹریفک کی آمد و رفت بھی معطل کر دی
9/11  مظاہرین نے کئی مقامات پر سڑکیں بلاک کر کے ٹریفک کی آمد و رفت بھی معطل کر دی
مزید Show less
ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم 16 سالہ کارکن گریٹا تھونبرگ کی اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران جذباتی تقریر کے بعد احتجاج میں شدت آ گئی تھی
10/11 ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم 16 سالہ کارکن گریٹا تھونبرگ کی اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران جذباتی تقریر کے بعد احتجاج میں شدت آ گئی تھی
مزید Show less
<p>&rsquo;ایکسٹنکشن ریبیلین&lsquo; کا کہنا ہے وہ توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران نئی دہلی سے نیو یارک تک 60 سے زائد شہروں میں پُر امن مظاہرے جاری رہیں گے</p>
11/11

’ایکسٹنکشن ریبیلین‘ کا کہنا ہے وہ توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران نئی دہلی سے نیو یارک تک 60 سے زائد شہروں میں پُر امن مظاہرے جاری رہیں گے

مزید Show less
Previous slide
Next slide

مختلف ملکوں میں یہ مظاہرے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم ’ایکسٹنکشن ریبیلین‘ کے تحت کیے گئے۔ یہ تنظیم ماضی میں بھی ماحولیات سے متعلق مسائل پر توجہ دلانے کے لیے کئی مظاہرے کر چکی ہے۔

حال ہی میں ایکسٹنکشن ریبیلین کے چار مظاہرین نے برطانیہ کی وزارتِ خزانہ کی عمارت کے سامنے سیکڑوں لیٹر سرخ رنگ بہا کر سڑک اور عمارت کی سیڑھیوں کو ’جعلی خون‘ سے رنگ دیا تھا۔

پیر کو لندن کے ٹرافلگر اسکوائر پر مظاہرین جمع ہوئے اور مرکزی سڑکیں اور پل بلاک کردیے۔ وہ ڈرم بجا کر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ مظاہرین نے احتجاجی بینرز اٹھا کر بکنگھم پیلیس کی طرف بھی مارچ کیا۔

ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا اس وقت ماحول خراب ہوا جب پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 276 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

گزشتہ ہفتے لندن پولیس نے مظاہروں سے متعلق تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی نے قانون توڑنے کی کوشش کی یا سول نافرمانی کی تحریک کا حصہ بننے کی کوشش کی تو اُسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ تاہم اس کے باوجود سیکڑوں مظاہرین احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔

دوسری جانب نیدر لینڈ میں بھی احتجاج کے دوران پولیس نے 100 ماحولیاتی مظاہرین کو گرفتار کیا۔

ایمسٹرڈیم میں مظاہرین پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر درج تھا کہ ’معاف کیجیے، ہم نے روڈ بند کیا ہوا ہے لیکن یہ ایمرجنسی ہے۔‘

امریکہ کے شہر نیو یارک میں مظاہرین نے وال اسٹریٹ پر لگے بیل کے مجسمے اور اپنے کپڑوں کو جعلی خون سے رنگ دیا اور پھر سڑکوں پر لیٹ کر انوکھا مظاہرہ کیا۔

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بھی مظاہرین نے سڑکیں بند کیں۔ اس دوران سڑکوں پر تقاریر بھی کی گئیں اور گانے بھی گائے گئے۔

لندن میں کچھ مظاہرین پیلے رنگ کے سیفٹی ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔ جن پر درج تھا کہ ’باغی کام پر ہے۔‘ انہوں نے خود کو سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں سے باندھ لیا تاکہ پولیس انہیں گرفتار نہ کر سکے۔

فرانس کے شہر پیرس میں بھی ’ایکسٹنکشن ریبیلین‘ کے مظاہرین نے سڑکوں کو بند کیا اور ماحولیات سے متعلق آگاہی کے لیے ورک شاپس منعقد کیں۔

یاد رہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مظاہروں میں گزشتہ ماہ بھی اس وقت شدت آئی تھی جب اقوامِ متحدہ کے آب و ہوا سے متعلق اجلاس میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم 16 سالہ کارکن گریٹا تھونبرگ نے ایک متاثر کن تقریر کی تھی۔ اس تقریر کو سوشل میڈیا پر بہت پزیرائی ملی تھی۔

گریٹا تھونبرگ کی تقریر کے بعد دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے آگاہی کے لیے مظاہرے کیے گئے تھے۔

’ایکسٹنکشن ریبیلین‘ کا کہنا ہے وہ توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران نئی دہلی سے نیو یارک تک 60 سے زائد شہروں میں پُر امن مظاہرے جاری رہیں گے۔ جن میں حکومتوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کیا جائے اور اس میں 2025 تک خاطر خواہ کمی لائی جائے۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG