رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا کا شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے پر غور


وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے جمعہ کو کہا کہ ان کی حکومت کو پینٹاگان سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں آسٹریلیا سے کہا گیا ہے کہ وہ دبئی میں موجود اپنے چھ ایف اے اٹھارہ جنگجو طیارے شام میں بمباری کے لیے بھیجنے۔

آسٹریلیا شام میں داعش کے جنگجوؤں پر بمباری کی امریکی درخواست پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت آسٹریلیا کی خارجہ پالیسی میں غیر معمولی تبدیلی کا اشارہ ہے اور سیاسی کشمکش کو جنم دے سکتی ہے۔

وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے جمعہ کو کہا کہ ان کی حکومت کو پینٹاگان سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں آسٹریلیا سے کہا گیا ہے کہ وہ دبئی میں موجود اپنے چھ ایف اے اٹھارہ جنگجو طیارے شام میں بمباری کے لیے بھیجنے۔

یہ جنگی طیارے گزشتہ سال اکتوپر سے شمالی عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ مگر آسٹریلیا شام میں فضائی کارروائیاں کرنے سے ہچکچاتا رہا ہے۔

اس کا مؤقف رہا ہے کہ شام کی جائز حکومت کی دعوت یا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مضبوط قانونی جواز کے بغیر وہاں بمباری میں حصہ لینا غیر قانونی ہو گا۔

ایبٹ نے کہا کہ اس درخواست پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ تاہم امریکہ اس طرح کی درخواستیں اس وقت تک نہیں کرتا جب تک اسے یقین دہانی نہ کروائی جائے کہ انہیں پورا کیا جائے گا۔

ایبٹ نے کہا کہ ’’(عراق اور شام کی) سرحد کے دونوں طرف فضائی حملوں کے اخلاقی جواز میں کوئی فرق نہیں مگر ان کی قانونی حیثیت میں کچھ فرق ہے۔‘‘

وزیراعظم نے داعش کے حوالے سے کہا کہ ’’آخر کار جب وہ سرحدوں کا احترام نہیں کرتے تو سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کریں؟‘‘ داعش نے عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں خلافت کا اعلان کر رکھا ہے۔

حزب مخالف کے رہنما بل شورٹن نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے شام پر بریفنگ میں آسٹریلیا کے جنگ میں شامل ہونے کے قانونی پہلوؤں پر زور دیں گے۔

شورٹن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’ہم امریکہ کی اس تجویز کی قانونی وضاحت طلب کریں گے۔ جو امریکہ ہمیں کرنے کے لیے کہہ رہا ہے کیا ہے قانونی ہے؟‘‘

حکومت پارلیمان سے اجازت لیے بغیر شام میں جنگی طیارے بھیج سکتی ہے اگرچہ اس سے پیدا ہونے والی سیاسی کشمکش سے شام میں جنگ کی عوامی حمایت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈون روتھویل نے کہا کہ آسٹریلیا کو عراق سے باہر جنگی آپریشنز میں توسیع میں قانونی مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں جنگی کارووائیوں میں شمولیت کا فیصلہ موجودہ قانونی فریم ورک سے انحراف ہو گا۔

امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں بحرین، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کئی ماہ سے شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔

کینیڈا کی پارلیمان نے شام میں فضائی کارروائیوں کی اصولی منظوری دے دی ہے اور برطانیہ بھی شام میں بمباری کے مشن میں حصہ لینے پر غور کر رہا ہے۔ برطانیہ کے پائلٹ پہلے ہی دیگر ممالک کی افواج میں شامل ہو کر بمباری میں حصہ لے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG