رسائی کے لنکس

آسٹریلیا نے شام میں فضائی کارروائیاں معطل کردیں


فائل

آسٹریلیا امریکہ کی سربراہی میں قائم اس کثیر الملکی بین الاقوامی فوجی اتحاد کا حصہ ہے جس نے ستمبر 2014ء میں شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی تھی۔

شام میں امریکی کی جانب سے شامی فوج کا طیارہ مار گرائے جانے کے نتیجے میں ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کھڑا ہونے کے بعد آسٹریلیا نے شام میں اپنے فضائی حملے روک دیے ہیں۔

آسٹریلیا کے محکمۂ دفاع نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں آسٹریلوی فوج کی فضائی کارروائیاں احتیاطی اقدام کے طور پر عارضی طور پر روکی جارہی ہیں۔

آسٹریلیا امریکہ کی سربراہی میں قائم اس کثیر الملکی بین الاقوامی فوجی اتحاد کا حصہ ہے جس نے ستمبر 2014ء میں شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی تھی۔

آسٹریلوی محکمۂ دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وہ شام کی فضائی صورتِ حال پر نظر رکھے گا اور وہاں حملےدوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ ضرورت پڑنے پر کیا جائے گا۔

وزارت نے بیان میں وضاحت کی ہے کہ پڑوسی ملک عراق میں داعش کےٹھکانوں پر آسٹریلوی فوج کے فضائی حملے بدستور جاری رہیں گے۔

امریکہ نے اتوار کو شامی فوج کے ایک روسی ساختہ جنگی طیارے کو مار گرایا تھا جو امریکی حکام کے مطابق شام کے قصبے طبقہ میں امریکہ کے حمایت یافتہ باغیوں پر بمباری کر رہا تھا۔

روس نے امریکہ کی اس کارروائی کو "جارحیت" قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ اس واقعے کےبعد شام کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں کو "ہدف" سمجھے گا۔

روس نے امریکہ کے ساتھ اس ہاٹ لائن کوبھی معطل کردیا ہے جو شام میں کسی حادثاتی فوجی تصادم کو روکنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

لیکن وہائٹ ہاؤس کے ترجمان شون اسپائسر نے کہا ہے کہ امریکہ ممکنہ کشیدگی میں کمی کے لیے رابطوں کے تمام ذرائع بحال رکھنے کی کوشش کرے گا۔

XS
SM
MD
LG