رسائی کے لنکس

logo-print

'آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے مواد پر گوگل اور فیس بک کو ادائیگی کرنا ہو گی'


فائل فوٹو

آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز 'گوگل' اور 'فیس بک' کو آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کا مواد استعمال کرنے کے بدلے ادائیگی کرنا پڑے گی۔

آسٹریلوی وزیرِ خزانہ جوش فرائڈنبرگ نے پیر کو کہا ہے کہ گوگل اور فیس بک سے ادائیگی سے متعلق ضابطہ اخلاق رواں برس جولائی تک بنا لیے جائیں گے۔ جس کے بعد جلد ہی اسے قانون کی شکل دے دی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق آسٹریلوی حکومت کے اس اقدام کے بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے اداروں کو ان کا مواد استعمال کرنے کی ادائیگی کرنا ہو گی۔

جوش فرائڈنبرگ کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ان کمپنیوں کا بھی احتساب کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے شعبۂ صحافت میں مزید نوکریاں پیدا کی جائیں گی اور سب کے لیے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا۔

'اے ایف پی' کے مطابق گوگل اور فیس بک آسٹریلوی میڈیا انڈسٹری پر بہت زیادہ اثر انداز ہوئے ہیں جو آن لائن اشتہارات کا دو تہائی حصہ حاصل کر رہے ہیں۔ ۔

اشتہارات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی کی وجہ سے آسٹریلوی میڈیا انڈسٹری میں پچھلے چھ برسوں کے دوران 20 فی صد نوکریاں ختم کر دی گئی ہیں۔

اگر آسٹریلیا، گوگل اور فیس بک سے ادائیگیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ دنیا میں پہلا ملک ہو گا جو ٹیک کمپنیوں سے مواد استعمال کرنے کی قیمت حاصل کر سکے گا۔

پچھلے سال یورپی ملک فرانس نے پہلی بار 'یورپی یونین کاپی رائٹ' قانون لاگو کرتے ہوئے مواد کو دوبارہ نشر کرنے کے عوض ادائیگی لازمی قرار دی تھی۔ تاہم گوگل اب تک فرانس کو ادائیگی نہیں کر رہا اور گوگل کا کہنا ہے کہ وہ فرانسیسی رپورٹس نشر نہیں کرے گا۔

یورپی ملک اسپین میں بھی 2014 میں مواد کی ادائیگی سے متعلق کی جانے والی قانون سازی کے بعد گوگل نیوز بند ہے۔

آسٹریلوی ادارے 'اے سی سی سی' کے چیئرمین راڈ سمز نے حکومت سے کہا تھا کہ اُنہیں نہیں لگتا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز آسٹریلوی حکومت کو ادائیگیوں پر رضا مند ہو جائیں گے۔

اس ضمن میں گوگل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے رضا کارانہ طور پر اس عمل میں حصہ لیا ہے اور وہ آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے اداروں اور اے سی سی سی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب فیس بک کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے لیے تعینات مینیجنگ ڈائریکٹر ول ایسٹن کا کہنا ہے کہ فیس بک نے آسٹریلوی پبلشرز کی سپورٹ کے لیے پارٹنرشپس، تربیت اور مواد کی فراہمی پر کروڑوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں گوگل اور فیس بک سے متعلق چلائی جانے والی اس مہم کی قیادت آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کی طاقتور شخصیت موگل روپرٹ کر رہے ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ گوگل اور فیس بک مقامی مواد استعمال کر کے اربوں ڈالرز کما چکے ہیں اور اب وہ اُنہیں ادائیگی کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG