رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: ڈھائی لاکھ آبادی کو آگ سے متاثرہ علاقہ چھوڑنے کی ہدایت


آسٹریلیا میں تقریباً ڈھائی کروڑ ایکٹر جنگلات میں آگ بھڑک رہی ہے۔

آسٹریلیا نے جمعے کے روز جنگلات کی آگ سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے تقریباً ڈھائی لاکھ لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گھر خالی کر دیں اور فوج کو امدادی سرگرمیوں کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے چند گھنٹے بہت ہی زیادہ مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ حصوں میں بارش بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود جنگلات میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی آگ کے چیلنج میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔

وزیراعظم سکاٹ مورسن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صورت حال میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کی صورت میں فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں کی طرف پیش قدمی کریں جہاں آگ بھڑک رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بہت اونچا درجہ حرارت اور تیز ہوائیں صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگرچہ میلبورن میں بارش ہوئی ہے اور اگلے ہفتے بہتر موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے، لیکن اس وقت جنگلات میں جو آگ بھڑک رہی ہے اس کی اس سے پہلے نظیر نہیں ملتی۔ اگلے چند گھنٹے ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔

آسٹریلیوی حکام نے وکٹوریہ کے علاقے میں دو لاکھ چالیس ہزار افراد کو ٹیکسٹ بھیجا ہے جس میں انہیں علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز اور جنوبی آسٹریلیا کے زیادہ خطرے کے علاقوں میں بھی لوگوں پر اپنے گھر خالی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگلات کی یہ آگ اب تک ڈھائی کروڑ ایکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ یہ رقبہ جنوبی کوریا کے برابر ہے۔ آگ کی زد میں آ کر 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میں اس وقت 160 مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے جس میں سے 46 مقامات کی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ دو مقامات پر آگ ایمرجینسی کی سطح پر ہے جبکہ آٹھ مقامات کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ’ دیکھو اور عمل کرو‘ کے لیول پر ہیں۔

وکٹوریہ کے علاقے میں 36 مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے اور 13 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ کے جنگلات جل رہے ہیں۔ نو مقامات پر آگ ایمرجینسی کی سطح پر ہے۔

الپائن کے علاقے میں 15 لاکھ ایکٹر کا رقبہ آتش زدگی کی لپیٹ میں ہے۔

وزیر اعظم مورسن نے کہا ہے کہ وہ آگ پر قابو پانے کے لیے 2 ارب آسٹریلیوی ڈالر خرچ کریں گے۔

امریکہ اور کینیڈا سے تقریباً ایک سو فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مدد کر رہے ہیں جبکہ آئندہ دنوں میں مزید 140 فائر فائٹرز آسٹریلیا پہنچ رہے ہیں۔

یورپی یونین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آتش زدگی سے اب تک 400 میگا ٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس خارج ہو چکی ہے جس سے آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

آسٹریلیا سے اٹھنے والے دھوئیں کے بادل بحرالکاہل کے علاقے میں پھیل رہے ہیں جس سے جنوبی امریکہ کے بہت سے شہر متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے موسمیات کے ادارے نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے جنگلات کی آگ کا دھواں اب انٹارکٹک میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG