رسائی کے لنکس

آسٹریلوی کرکٹرز ذہنی تناؤ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟


آسٹریلیا کے تین کھلاڑی 'مینٹل ہیلتھ' کی وجہ سے کرکٹ سے کچھ عرصے کے لیے دوری اختیار کرلی ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 22 نومبر سے آسٹریلیا میں ہی ہونے جا رہا ہے۔ تاہم اس سے قبل کینگروز ٹیم کے تین کھلاڑی ذہنی تناؤ کی وجہ سے رخصت لے چکے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے نامی گرامی بلے باز گلین میکسویل نے گزشتہ ماہ ذہنی تناؤ کی وجہ سے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ سے درخواست کی تھی کہ اُنہیں کچھ وقت کرکٹ سے دور رہنا ہوگا۔

میکسویل کے بعد ول پکوسکی نے 'مینٹل ہیلتھ' کے باعث رخصت کی درخواست دی، اس سے قبل وہ اسی مسئلے کی وجہ سے دو مرتبہ پہلے بھی رخصت لے چکے ہیں۔

پاکستان کے خلاف تین روزہ آزمائشی میچ سے قبل آسٹریلوی بلے باز نک میڈنسن نے اسی قسم کے مرض کی شکایت کی تھی جس کی وجہ سے میکسویل اور ول پکوسکی رخصت لے چکے تھے۔

آسٹریلوی کرکٹرز کی جانب سے ذہنی تناؤ کے باعث رخصت کی درخواست لینے کے ایک کے بعد ایک کیسز سامنے آنے پر کرکٹ کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے بھی کھلاڑیوں کے ذہنی دباؤ سے جڑے معاملات پر غور شروع کر دیا ہے تاہم اس حوالے سے کرکٹ بورڈ نے کوئی بیان جاری نہیں کیا کہ مذکورہ کرکٹرز کس وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے سربراہ بین اولیور نے 'ایس ای این' اسپورٹس ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو درپیش مسائل سے متعلق بہت سے عوامل کار فرماں ہیں۔

اُن کے بقول، "رواں سال عہدہ سنبھالنے کے بعد میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ کھلاڑیوں کی طویل ترین کرکٹ کی مصروفیت اور سخت جانچ پڑتال مسائل کی وجہ بن رہے ہیں۔"

بین الیور نے کہا کہ ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کے ساتھ وقت گزارا جائے، تمام توانائیاں اور وسائل ان پر خرچ کیے جائیں تاکہ اُنہیں ذہنی تناؤ جیسے مسائل سے باہر نکالا جائے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے بھی گلین میکسویل کی اچانک کرکٹ سے رخصت لینے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل اندور میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے پہلے انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آپ کو بعض اوقات ذہنی سکون کے لیے کرکٹ سے دور ہونا پڑتا ہے کیوں کہ مسلسل کھیلتے ہوئے آپ تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آسٹریلوی فاسٹ بالر مچل اسٹارک نے کھلاڑیوں کو درپیش مسائل کا الزام اذیت ناک شیڈول کو قرار دیا ہے۔ اُن کے بقول، نامور کھلاڑی کئی مہینوں تک اپنے گھر سے دور رہتے ہیں اور انہیں اہلخانہ کی طرف سے بھی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

مچل اسٹارک کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں پر بہترین کارکردگی دکھانے کا دباؤ ہوتا ہے اور ان دنوں میچز کا شیڈول بھی اذیت ناک ہے۔ اگر کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ دی جائے تو وہ زیادہ مطمئن رہیں گے۔

کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے مصنف رابرٹ کریڈوک کا کہنا ہے کہ کرکٹ صرف جسمانی کھیل نہیں بلکہ اس میں اعصاب کے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بلے باز اکثر ناکام ہوجاتے ہیں، انہیں کافی انتظار کرنا پڑتا ہے اور جس طرح وہ دکھائی دے رہے ہوتے ہیں اس سے زیادہ مشکل میں ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG