رسائی کے لنکس

ضلع آواران میں سڑک کنارے دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) نصب کر رکھا تھا جس سے سڑک سے گزرتے وقت ایک موٹر سائیکل ٹکرا گئی؛ اور زوردار دھماکہ ہوا جس سے موٹر سائیکل پر تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔ اُن میں سے دو افراد نے موقع پر دم توڑ دیا

بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے، جبکہ پنجگور بازار کے قریب لیویز اہلکاروں نے ایک شخص کی لاش برآمد کر لی۔

لیویز حکام کے مطابق، ضلع آواران کے علاقے مشکے میں نامعلوم افراد نے سڑک کنارے دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) نصب کر رکھا تھا جس سے سڑک سے گزرتے وقت ایک موٹر سائیکل ٹکرا گئی؛ اور زوردار دھماکہ ہوا جس سے موٹر سائیکل پر تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔ اُن میں سے دو افراد نے موقع پر دم توڑ دیا، جبکہ تیسرے کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت نازک بتائی ہے۔

واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی۔

آواران کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا آبائی ضلع ہے اور اس ضلع میں یہ تنظیم کافی سرگرم عمل ہے، جو وہاں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کرتی اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتی رہتی ہے۔

اُدھر صوبائی دارلحکومت کے قریبی علاقے کچلاغ میں ایک گھر کے اندر دستی بم کے دھماکے سے دو خواتین سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق، بچوں کو گھر کے قریب دستی بم ملا تھا جسے وہ گھر لاکر اُسے کھولنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس سے دھماکہ ہوگیا۔ دھماکے سے گھر کے کمروں اور دیواروں کو بھی نقصان پہنچا۔

دوسری طرف، پنجگور میں لیویز حکام کو ایک نا معلوم شخص کی لاش ملی ہے جو شناخت کےلئے سول اسپتال پنجگور میں رکھ دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG