رسائی کے لنکس

logo-print

بارودی سرنگوں کی کھوج لگانے والے چوہے کے لیے گولڈ میڈل


بہادری کا گولڈ میڈل جیتنے والا مگاوا نامی چوہا، اپنے ایوارڈ کے ساتھ ۔

کمبوڈیا میں بارودی سرنگوں اور زیرِ زمین چھپائے گئے بارودی مواد کا کھوج لگانے والے ایک چوہے کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا ہے۔

سونے سے بنا اعلیٰ ترین برطانوی ایوارڈ حاصل کرنے والے چوہے کا نام 'مگاوا' ہے۔ یہ ایک خاص افریقی نسل کا چوہا ہے۔ اس نسل کے چوہے جسامت میں بڑے ہوتے ہیں اور ان کی اوسط عمر بھی عام چوہوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

مگاوا تقریباً آٹھ برس تک زندہ رہتے ہیں۔ اس لیے اُنہیں سدھار کر کئی برس تک خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

مگاوا کو ملنے والے ایوارڈ کا نام 'پی ڈی ایس اے' گولڈ میڈل ہے۔ یہ ان جانوروں کو دیا جاتا ہے جو انسانی زندگیاں بچانے کے لیے بہادری اور جانفشانی سے کام کرتے ہیں۔

'پی ڈی ایس اے' کا قیام 1917 میں بیمار جانوروں کے علاج کے لیے ایک کلینک سے ہوا تھا۔ اس ادارے نے 1943 میں انسانی بھلائی کے لیے دلیرانہ خدمات انجام دینے والے جانوروں کو گولڈ میڈل دینے کا سلسلہ شروع کیا جو اب تک جاری ہے۔

مگاوا زمین میں چھپائی گئی باردوی سرنگیں تلاش کر رہا ہے۔
مگاوا زمین میں چھپائی گئی باردوی سرنگیں تلاش کر رہا ہے۔

مگاوا کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنی سات سالہ خدمات کے دوران کمبوڈیا میں زیرِ زمین چھپائی گئی 39 بارودی سرنگوں اور 28 دھماکہ خیز آلات کا کھوج لگایا۔ اگر اُنہیں صاف نہ کیا جاتا تو ان کا نشانہ بن کر کئی انسان اپنی زندگیوں سے محروم ہو سکتے تھے۔

زیرِ زمین چھپائی گئی بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کا کھوج لگانے کے لیے مگاوا کو بیلجیئم کے ایک ادارے میں تربیت دلوائی گئی۔

گزشتہ 20 سال سے قائم اپوپو نامی یہ ادارہ چوہوں کو بارودی سرنگیں تلاش کرنے کی تربیت بھی دیتا ہے۔ اس ادارے کے تربیت یافتہ چوہے کمبوڈیا، انگولا، زمبابوے اور موزنبیق کے مختلف علاقوں میں زمین میں دفن بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز آلات ڈھونڈنے کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق مسلح تنازعات اور لڑائیوں کے دوران وہاں زمین میں لاکھوں کی تعداد میں بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز آلات دفن کر دیے گئے تھے، جو ابھی تک لوگوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا سبب بن رہے ہیں۔

مگاوا کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ بارودی سرنگوں کی نشان دہی کرنے والے چوہوں کے گروپ کا سب سے کامیاب چوہا ہے۔ وہ اب تک ایک لاکھ 40 ہزار مربع میٹر سے زیادہ رقبے کی چھان بین کر چکا ہے۔ جہاں سے بارودی مواد نکال کر اسے انسانی استعمال کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ جگہ فٹ بال کے تقریباً 20 میدانوں کے برابر ہے۔

زیر زمین چھپائے گے بارودی مواد کی نشاندہی پر چوہے کو انعام کے طور پر پسندیدہ چیز کھانے کے لیے دی جاتی ہے۔
زیر زمین چھپائے گے بارودی مواد کی نشاندہی پر چوہے کو انعام کے طور پر پسندیدہ چیز کھانے کے لیے دی جاتی ہے۔

چوہوں کو تربیت دینے والے ادارے اپوپو کے سربراہ کرسٹوفر کاکس نے مگاوا کے گولڈ میڈل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل میں یہ ہمارا میڈل ہے کیونکہ اسے ہم نے تربیت دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مگاوا کو یہ ایوارڈ ملنے پر کمبوڈیا اور ان علاقوں کے لاکھوں افراد بھی خوش ہوں گے، جہاں زمین میں چھپائی گئی بارودی سرنگوں نے ان کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کے 59 ملکوں میں اب بھی زیر زمین لاکھوں ایسی بارودی سرنگیں موجود ہیں جنہیں ابھی تک نکالا نہیں جا سکا ہے، جس سے لگ بھگ چھ کروڑ انسان خطرے اور خوف کے ماحول میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ صرف 2018 میں بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے واقعات میں دنیا بھر میں لگ بھگ سات ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG