رسائی کے لنکس

جعلی ڈگری اسکینڈل کے تمام ملزمان سپریم کورٹ طلب


جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام کا سامنا کرنے والی 'ایگزیکٹ' کمپنی کا ایک دفتر (فائل فوٹو)

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اچھی خبر ملنے چاہیے کہ عامر لیاقت نے ایگزیکٹ سے ڈگری نہیں لی۔ لیکن اگر انہوں نے ایگزیکٹ سے ڈگری لی ہے تو اسے چھوڑوں گا نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے جعلی ڈگری اسکینڈل سے متعلق 'ایگزیکٹ' کیس میں کہا ہے کہ اگر جعلی ڈگریوں کی خبر سچ ثابت ہوئی تو کوئی نہیں بچے گا لیکن اگر یہ واقعہ درست نہیں ہوا تو جو مہم چلارہے ہیں ان کے خلاف ایکشن ہوگا۔

ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو کی جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے دفاتر کو سیل کرکے دستاویزات قبضے میں لی ہیں۔ یہ معاملہ دوبارہ اجاگر ہورہا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔

چیف جسٹس نے طنزاً کہا کہ پاکستان کی بدنامی پر ازخود نوٹس لینا ہماری غلطی ہے۔ آج کل ہم اپنی غلطیوں کا تعین کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تمام ملزمان کے نام لکھوا دیں۔ اگر جعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو کوئی نہیں بچ پائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ واقعہ درست نہیں ہوا تو جو لوگ مہم چلارہے ہیں ان کے خلاف ایکشن ہوگا۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ سب سے پہلے 15 مئی 2015ء کو ایگزیکٹ کے جعلی ڈگریوں کے کاروبار سے متعلق خبر شائع ہوئی تھی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹ کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے۔ اس ادارے کے 10 کاروباری یونٹ ہیں۔ ایک بزنس یونٹ آن لائن تعلیم کا ہے۔ کمپنی کا 70 فی صد ریونیو تعلیم کے شعبے سے آتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں 331 یونی ورسٹیز کی ویب سائٹ بنائی گئیں جن پر مختلف افراد کے فوٹو لگائے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ویب سائٹس پر امریکا کا نمبر دیا گیا لیکن فون پاکستان میں موجود شخص سنتا تھا۔ ڈگری کے حصول کے خواہش مند کمپنی کے امریکہ کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کراتے تھے اور امریکہ سے وہ پیسے پاکستان منتقل ہو جاتے تھے۔ یہاں سے دبئی کے راستے امریکہ ڈگری بھیجی جاتی تھی۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے خلاف چار مقدمات درج کیے۔ دو میں اسلام آباد سے ملزمان کی ضمانت ہو گئی جب کہ ایک جج پر پیسے لینے کا الزام بھی لگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں کراچی کی ماتحت عدالت میں بھی ٹرائل چل رہا ہے۔ پشاور میں جعلی ڈگری والے پروفیسر پکڑے گئے۔ پشاور میں ایک جعلی ڈگری کا معاملہ اور بھی ہے مگر وہ کیس چلا ہی نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اچھی خبر ملنے چاہیے کہ عامر لیاقت نے ایگزیکٹ سے ڈگری نہیں لی۔ لیکن اگر انہوں نے ایگزیکٹ سے ڈگری لی ہے تو اسے چھوڑوں گا نہیں۔ عامر لیاقت کو ہماری بات سمجھا دیں۔ اگر ہمارے احکامات کی پابندی نہیں کریں گے تو ٹی وی پر پروگرام نہیں کر سکیں گے۔

عامر لیاقت نے عدالت میں جواب دیا کہ میری ڈگری نہ جعلی ہے نہ ایگزیکٹ سے لی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عزت بچانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کیس کے تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیں گے۔

عدالتِ عظمیٰ نے ایگزیکٹ کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ، ماتحت عدالتوں کے رجسٹرار اور تمام ملزمان کو جمعے کو طلب کرلیا۔

کراچی میں قائم ایگزیکٹ نامی کمپنی پر الزام ہے کہ وہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ملوث ہے۔ اس وقت بھی ایگزیکٹ کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں جبکہ کچھ دن قبل اس بارے میں برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے بھی اس کیس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے حکام سے تمام تفصیلات طلب کی تھیں۔

اس کمپنی کے زیرِ انتظام دو نجی ٹی وی چینل بھی چل رہے ہیں۔ ایگزیکٹ کے مالکان جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG