رسائی کے لنکس

logo-print

ایف آئی اے کو ایگزیکٹ کے بینک اکاوٴنٹس کی تحقیقات کی اجازت


سائبرکرائم کے انسداد کے دو ماہرین نے ایگزیکٹ کے مین سرورز کا ڈیٹا ڈی کوڈ کرلیا ہے جس کے بعد 60 یونیورسٹیوں اور 42 ہزار طالب علموں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ طالب علموں کی زیادہ تر تعداد غیر ملکیوں پر مشتمل ہے

آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کے مبینہ جعلی ڈگری اسکینڈل کی تحقیقات کا سلسلہ جمعہ کو چوتھے روز بھی جاری رہا۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے ایگزیکٹ کے دفتر میں ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور اس کے ملازمین سے پوچھ گچھ کی جبکہ کراچی ساوٴتھ کی سیشن کورٹ کے جج نے ایف آئی اے کو ایگزیکٹ کے 34بینک اکاوٴنٹس کی تحقیقات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

لاہور اور اسلام آباد سے ایگزیکٹ کے کراچی میں واقع ہیڈ آفس پہنچنے والے سائبر کرائم کے انسداد سے متعلق دو ماہرین نے ایگزیکٹ کے مین سرورز کا ڈیٹا ڈی کوڈ کرلیا ہے، جس کے بعد 60 یونیورسٹیوں اور 42 ہزار طالب علموں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ طالب علموں کی زیادہ ترتعداد غیرملکیوں پر مشتمل ہے۔

ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، شعیب شیخ آج بھی ایف آئی اے کے روبرو بیان ریکارڈ کرانے پیش نہیں ہوئے۔ ایف آئی اے نے شعیب شیخ کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔

ایگزیکٹ کیخلاف کارروائی ایف آئی اے قانون کے تحت کی جائے گی جبکہ ادارے کے سی ای او شعیب شیخ اوردیگر افراد کے بیان سائبر کرائم سرکل میں ریکارڈ کیے جائیں گے۔

دوسری جانب کراچی کی سیشن عدالت ساوٴتھ کے جج نے ایف آئی اے کو ایگزیکٹ کے 34 بینک اکاوٴنٹس کی تحقیقات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔جمعرات کو ایف آئی اے کی ٹیم نے ایگزیکٹ ہیڈآفس سے ڈگریاں، کمپیوٹرز اور مہر بنانے کی مشین قبضے میں لی تھی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کی جانب سے مبینہ جعلی ڈگریوں کی فروخت سے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG