رسائی کے لنکس

عائشہ باوانی کالج کا تنازع حل ہو گیا


عائشہ باوانی اکیڈمی ۔ فائل فوٹو

علی رانا

حکومت سندھ اور عائشہ باوانی ٹرسٹ کے درمیان جاری تنازعہ حل ہوگیا ہے اورسپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو مئی 2019 تک عائشہ باوانی کالج ٹرسٹ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے عائشہ باوانی کالج ٹرسٹ کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے گورنمنٹ عائشہ باوانی کالج میں مزید داخلے کرنے سے روکتے ہوئے سندھ حکومت کو مئی 2019 تک عائشہ باوانی کالج ٹرسٹ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ عائشہ باوانی ٹرسٹ نئے نام سے رجسٹرڈ کر سکتا ہے اور دو سال کے بعد کالج سے ٹرسٹ کا نام ہٹ جائے گا۔

عدالت نے سندھ حکومت کو کالج کے 17کمروں میں سے تین کمرے 31 مئی تک ٹرسٹ کے سپرد کر نے کا حکم بھی دیا۔

دوران سماعت سندھ حکومت نے عائشہ باوانی ٹرسٹ کو 85 لاکھ کا چیک بھی دیا۔

جسٹس عظمت سعید نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے اور فیصلے کی خلاف ورزی پر عدالت توہین عدالت کی کارروائی کر سکتی ہے ۔

کراچی میں قائم عائشہ باوانی ٹرسٹ کے سکول اور کالج کے معاملے پر کئی مہینوں سے حکومت سندھ اور ٹرسٹ کے درمیان تنازع چل رہا تھا جس کی وجہ سے تدریسی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG