رسائی کے لنکس

logo-print

اپوزیشن کا آزادی مارچ: مذاکرات کامیاب، معاہدے پر دستخط


پاکستان میں اپوزیشن کے مشترکہ آزادی مارچ کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور جمعیت علمائے اسلام نے ایک معاہدے پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔

معاہدے کے مطابق، وفاقی حکومت نے آزادی مارچ کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دیدی ہے۔ لیکن، یہ مارچ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک یا بلیو ایریا کے علاقے میں داخل نہیں ہوگا۔ حکومت جلسے یا دھرنے کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

حکومتی مذاکرات کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''آزادی مارچ کے معاملے پر اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے اچھے ماحول میں مذاکرات ہوئے اور تحریری طور پر معاہدہ طے پا گیا ہے''۔

معاہدے کے تحت ''حکومت احتجاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان نہیں روکا جائے گا۔ سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی۔ جے یو آئی ایف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرائے گی''۔

پرویز خٹک کے مطابق، اکرم درانی نے یقین دلایا ہے کہ وہ ریڈ زون یا ڈی چوک نہیں جائیں گے۔ جلسہ یا دھرنا ایچ نائن اتوار بازار کے ساتھ ملحقہ گراؤنڈ میں ہوگا جو کہ پرامن ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جگہ 20 سے 30 ایکڑ پر محیط اور کافی کشادہ ہے۔

اپوزیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احتجاج کے دوران سڑکیں بند نہیں ہوں گی، کاروبار، دفاتر اور اسکول کھلے رہیں گے، باقی اپوزیشن کی مرضی وہ وہاں جب تک بیٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ڈیڈلاک جلسے کے مقام کا تھا اب معاہدہ ہوگیا ہے تو چھوٹی چھوٹی باتیں خود بخود ختم ہوگئی ہیں۔ یہ معاہدہ ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ تاہم، تحریری طور پر انتظامیہ سے ہے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ''ہماری اپوزیشن سے کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہر کسی کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ احتجاج آئینی دائرے میں ہو۔ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچے گا تو یہ معاہدہ ہوگیا''۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی ڈی چوک کے علاوہ باہر جلسہ کرنے پر راضی ہوگئی ہے کہ وہ ڈی چوک نہیں جائے گی تو مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم ہوگیا ہے۔ اب وہ گراؤنڈ میں جلسہ کریں یا دھرنا دیں یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔ رہبر کمیٹی اپنے معاہدے پر عمل شروع کردے تو راستوں سے کنٹینر ہٹانے کا کام شروع کردیا جائے گا۔

پرویز خٹک نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے دھرنا ختم یا موخر کرنے کے معاملے پر وزیر اعظم کے استعفی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

پشاور موڑ ہے کہاں؟

پشاور موڑ اسلام آباد کے داخلی مقام زیرپوائنٹ سے ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ماضی میں یہاں ایک چوک تھا جہاں آئے روز رش کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی تھی۔ لیکن اس مقام سے میٹرو بس سروس کا گزر ہوا تو یہاں بھی فلائی اوور بنا دیا گیا جس سے عام شہریوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔

کشمیر ہائی وے پر موجود پشاور موڑ کی اطراف کا جائزہ لیں تو مشرق کی طرف زیروپوائنٹ، مغرب کی طرف نیو ائیرپورٹ اور موٹروے،، شمال کے رخ اسلام آباد کا سیکٹر جی نائن فور جبکہ جنوب کی طرف راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو جانے والی نائنتھ ایونیو موجود ہے۔

پشاور موڑ پر موجود فلائی اوور کے ساتھ اسلام آباد کے شہریوں کی سہولت کے لیے اتوار بازار قائم ہے جہاں ہر اتوار کو سبزی، فروٹ اور دیگر اشیا کی بہت بڑی مارکیٹ لگتی ہے، جبکہ جلسہ گاہ کی مجوزہ جگہ اس کے ساتھ ہے، جہاں پر میٹرو بس سروس کا ڈپو بھی ہے۔

اسی پشاور موڑ میں مشرق کی طرف جی نائن فور سیکٹر کے آغاز پر ایف آئی اے کا ہیڈکوارٹر ہے جبکہ زیروپوائنٹ کی جانب پیمرا اور دیگر اہم عمارتیں موجود ہیں۔

اس دھرنے یا مارچ کے دوران اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے لیے اہم معاملہ اس سڑک پر ٹریفک کو بحال رکھنا ہوگا، کیونکہ یہ سڑک نیو ائیرپورٹ اور موٹروے کو لنک کرتی ہے اور اسی سڑک سے تمام ٹریفک گزرتی ہے۔ اس سڑک کو بند کر دینے سے اسلام آباد کے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

معاہدے میں ہے کیا؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آزادی مارچ پر معاہدہ اسلام آباد کے ضلعی انتظامیہ اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان ہوا جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور سیکرٹری جنرل جے یو آئی ف مفی عبداللہ کے دستخط ہیں۔

اس سات نکاتی معاہدے کے مطابق، آزادی مارچ ایچ نائن اتوار بازار میٹرو ڈپو پر منعقد ہوگا۔ حکومت ریلی کے شرکا کے راستے سمیت کھانے پینے کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ آزادی مارچ کے شرکا شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کرینگے۔ جلسے کے شرکا مختص کردہ جگہ سے غیر قانونی طور پہ باہر نہیں جائیں گے۔ اس مارچ کی اندرونی سیکورٹی جلسہ منتظمین کی ذمہ داری ہوگی۔ معاہدہ پر من و عن عملدرآمد کے لیے انتظامیہ کو بیان حلفی دینگے، این او سی کی خلاف ورزی پر قانونی کاروائی ہوگی۔ اس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں یہ معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ سرکاری، غیر سرکاری املاک، انسانی زندگی کو نقصان پہنچانے کی صورت میں کارروائی ہوگی۔

جی یو آئی ف اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے بعد جمعیت علمائے اسلام کو آزادی مارچ کے لیے این او سی جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں موجود کنٹینرز کے حوالے سے انتظامیہ کا موقف ہے کہ آزادی مارچ کے منتظمین کی طرف سے پشاور موڑ پر انتظامات کے بعد ان کنٹینرز کو اٹھا لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG